آسمانی بجلی گرنے سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

اس مون سون محمکہ موسمیات نے پورے ملک میں طوفانی برساتوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اور طوفانی برسات کے ساتھ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہونے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگوں کی اموات ہوتی ہیں۔

اس لیے طوفان کے دوران اس سے محفوظ رہنے کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہیں۔

بجلی کے طوفان یا عام طوفان میں محفوظ رہنے کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ گھر سے باہر جانے سے اجتناب کیا جائے، حتیٰ کہ جب آپ گھر کے اندر بھی ہوں تب بھی کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ آئیے ہم آپ کو اس بارے میں کچھ انتہائی اہم نکات بتاتے ہیں:

اگر آپ گھر سے باہر ہوں اور بجلی کے طوفان کی زد میں آجائیں تو:

  • فوراً کسی مضبوط چھت کے نیچے پناہ لیں۔ چھت پکی اور مضبوط ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ اس میں وائرنگ اور پلمبنگ بھی ہو، جو بجلی کو زمین میں داخل کرتی ہیں جس سے وہاں موجود افراد کرنٹ لگنے سے محفوظ رہیں گے۔ بس اسٹاپ، سڑک کنارے موجود چھپر، یا ایسی جگہ جہاں وائرنگ اور پلمبنگ موجود نہ ہو، وہاں آپ آسمانی بجلی سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔

  • کسی بھی لمبے درخت یا پھر اسٹریٹ لائٹ کے نیچے نہ کھڑے ہوں کیونکہ آسمانی بجلی اونچی چیزوں پر گرتی ہے۔

  • جتنا جلدی ہو سکے، زمین کی نچلی سطح کا رخ کریں (اگر آپ چھت پر ہیں تو گراؤنڈ فلور کی طرف جائیں یا پھر اگر آپ پہاڑ پر ہیں تو پھر گھاٹی کا رخ کریں)۔

  • اگر آپ کرکٹ یا فٹ بال کے میدان جیسے کسی کھلے علاقے میں ہیں اور وہاں صرف آپ کا وجود ہی سب سے لمبا ہے تو پھر جلدی سے کسی قریبی چھت کا رخ کریں۔

  • اگر اپنی گاڑی میں موجود ہیں اور اگر آپ کسی محفوظ جگہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تو پھر گاڑی کے اندر ہی رہیں۔ گاڑی کے شیشے اوپر چڑھا دیں، انجن بند کردیں اور گاڑی کے اندر کسی بھی دھاتی حصے کو نہ چھوئیں۔

  • اگر آپ کسی ایسی گاڑی میں سوار ہوں جس کی چھت کسی نرم چیز کی ہے تو پھر فوراً گاڑی سے نکل کر کسی محفوظ عمارت میں پناہ لیں۔ (رکشے اور کھولی جا سکنے والی چھت والی گاڑیاں ایسے طوفان میں محفوظ نہیں ہیں)۔

  • ربڑ کے جوتے اور ہاتھوں میں دستانے پہننے سے آپ کو آسمانی بجلی سے کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر آپ برسات میں بجلی کی اشیاء یا تاروں کو ایک جگہ سے دوسری منتقل کر رہے ہوں اس صورت میں یہ چیز لازمی ہے، بشرطیکہ دستانے اور جوتے اندر سے نم قطعی نہ ہوں۔

اگر آپ کوئی پناہ تلاش نہیں کر پا رہے، اور آپ کو لگ رہا ہو کہ بجلی کا طوفان آنے والا ہے تو پھر یہ تدابیر اختیار کر کے نقصان کو حتی الامکان کم کیا جاسکتا ہے:

  • اکڑوں ہو کر پنجوں کے بل بیٹھ جائیں۔

  • اپنے کانوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپ لیں (تاکہ سننے کی صلاحیت کم سے کم متاثر ہو)۔

  • اپنی آنکھیں بند کرلیں (اس طرح آپ کی آنکھیں بجلی کی تیز روشنی اور چمک سے محفوظ رہتی ہیں)۔

  • اپنا سر اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھیں۔

  • زمین پر سیدھا نہ لیٹیں اور چونکہ آسمانی بجلی زمین سے ہوتی ہوئی گزرتی ہے اس لیے جس قدر ممکن ہو اپنے جسم کو زمین سے الگ رکھیں۔

  • اگر باہر کھلے میں کوئی پالتو جانور ہوں تو انہیں اپنے ساتھ رکھنا نہ بھولیں۔

  • جتنا ممکن ہو سکے اس قدر جمع شدہ پانی سے دور ہو جائیں (جیسے سوئمنگ پولز، جھیلیں، سمندر وغیرہ)۔

  • اگر کھلے میں بجلی کا طوفان ہو اور آپ کے ہمراہ دو یا دو سے زائد افراد ساتھ ہوں، تو پھر ایک دوسرے سے 50 فٹ کے فاصلے پر ایک دوسرے سے الگ الگ ہو جائیں۔ اس طرح کسی ایک شخص پر بجلی گرنے سے اسے لگنے والے جھٹکے سے دیگر افراد کو بجلی کے جھٹکے لگنے کے خدشات کم ہوجاتے ہیں۔

  • اگر آپ کے ساتھ کوئی دھاتی چیز ہے تو اسے خود سے 25 سے 30 میٹر دور رکھیں۔

مشورہ 1: اگر آپ کے بال کھڑے ہونے شروع ہوجائیں یا پھر دھاتی چیزیں لرزنا شروع ہوجائیں تو اس طرح آپ کو محسوس ہوسکتا ہے کہ بجلی گرنے والی ہے۔

مشورہ 2: بجلی کس قدر قریب ہے اس کی پیش گوئی آپ اپنی دیکھنے کی صلاحیت سے کر سکتے ہیں۔ اگر بجلی چمکنے اور گرجنے کے درمیان ۳۰ سیکنڈز سے کم فرق ہو تو فوراً کسی پناہ گاہ کا رخ کریں یا پھر اکڑوں ہو کر بیٹھ جائیں۔

بجلی کے طوفان کے دوران اگر کسی مکان کے اندر ہیں تو:

  • طوفان کے دوران سوئچ بورڈ کا استعمال نہ کریں اور کسی بھی چیز کا پلگ نہ نکالیں کیونکہ بجلی گرنے کی صورت میں آسمانی بجلی کا کرنٹ ان سے گزر کر آپ کو اپنی گرفت میں لا سکتا ہے۔

  • کھڑکی کی طرف جانے سے اجتناب کریں اور جہاں تک ممکن ہو کمرے کے بیچ میں ہی رہیں، کیونکہ آسمانی بجلی کھڑکیوں سے گزر کر اندر داخل ہوسکتی ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی یہ اس کھڑکی کا شیشہ ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہے۔

  • کسی بھی ایسی ڈیوائس کا استعمال نہ کریں جس کی تار ہو، جیسے لینڈ لائن فون، کیبل انٹرنیٹ ڈیوائس یا ٹی وی وغیرہ۔

  • نلکوں، شاور، باتھ ٹب یا سِنک کا استعمال نہ کریں (غسل خانہ، باورچی خانہ)۔

  • بیڈ پر لیٹے ہونے سے یا صوفے پر بیٹھے میں کسی قسم کا رسک نہیں بشرط ہے کہ آپ فون یا کوئی ایسی تار والی ڈیوائس استعمال نہ کر رہے ہوں جو سوئچ بورڈ سے جڑی ہو۔

علاج

  • آسمانی بجلی کی زد میں آنے والے شخص کو فوراً طبی امداد مہیا کریں۔ آسمانی بجلی کی زد میں آنے والے شخص میں کسی قسم کا کرنٹ نہیں ہوتا؛ اس لیے اگر اس شخص کی مدد کریں گے تو آپ کرنٹ لگنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔

  • اس شخص کو کسی محفوظ جگہ پر منتقل کریں کیونکہ بجلی دوبارہ اسی جگہ پر گر سکتی ہے۔

  • اگر وہ شخص سانس نہیں لے رہا لیکن اس کی نبض چل رہی ہو تو اپنے منہ کے ذریعے اس شخص کو سانس فراہم کرنے کا طریقہ اختیار کریں۔

  • اگر نبض بھی نہ چل رہی ہو تو پھر سی پی آر کا طریقہ اختیار کریں۔

  • اگر وہ شخص سانس بھی لے رہا ہو اور اس کی نبض بھی چل رہی ہو تو پھر دیگر جسمانی زخموں جیسے جھلسنے، سننے اور دیکھنے کی صلاحیت کی محرومی، ٹوٹی ہڈیوں کی تشخیص کروائیں۔

  • اس شخص کے کپڑے نہ اتاریں۔

  • اس شخص کو شاک ٹریٹمنٹ فراہم کرنے کے لیے اسے پیٹ کے بل لیٹا کر اور اس کے سر کو باقی جسم کے حصوں سے تھوڑا نیچے کی طرف جھکا دیں۔ ذرا سی ٹانگیں اوپر کی طرف اٹھائیں اور سہارا دیں۔

یاد رکھیں

آخری بار بجلی گرجنے کے 30 منٹ سے پہلے محفوظ مقام سے نہ جائیں۔ آسمانی بجلی تمام اونچی چیزوں پر گرتی ہے اس لیے اسٹریٹ لائٹس، درخت، آپ کے ٹی وی یا ڈش اینٹنا، اور ہیڈ ٹینکی یا کوئی بھی ایسی چیز جو آپ کے گرد دیگر چیزوں سے اونچی ہوں، اس پر بجلی گر سکتی ہے۔ اس لیے کسی بھی ایسی چیز سے جو ان سے جڑی ہو ان سے دور رہیں بھلے ہی آپ گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہوں۔

برساتی طوفان میں یہ ضروری ہے کہ:

  • کسی بھی محفوظ پناہ گاہ کا عقلمندی سے انتخاب کریں۔

  • کسی بھی الیکٹریکل یا تار والی مصنوعات کا استعمال نہ کریں۔

  • باہر نکلتے وقت گری ہوئی چیزوں، یا ایسی ڈھیلی لٹکتی ہوئی تاروں سے ہوشیار رہیں جو دروازہ کھولنے اور بند ہونے جتنی لرزش سے بھی گر سکتی ہیں۔

  • پھسلن بھری سطحوں سے چوکس رہیں۔

  • جمع شدہ پانی کے چھوٹے چھوٹے گڑھوں سے پرہیز کریں کیوںکہ ان میں طوفان میں گری ہوئی بجلی کی تاروں کا کرنٹ ہوسکتا ہے۔

  • ٹارچ کا استعمال کریں۔

  • کسی بھی امکانی لیکج کا جائزہ لیے بغیر یکدم گیس کنیکشن کا استعمال نہ کریں (خاص طور پر اگر آپ کے پاس گیزرز ہوں)۔

  • ہر کسی کا خیال کریں، چاہے آپ اپنے گھر میں ہوں، آفس یا پھر کسی دوسری جگہ پر ہوں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر کوئی آگاہ ہو کہ حالات کیسے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*