مانسہرہ کی تاریخ

مانسہرہ “سابقہ/ پرانا پکھلی سرکار” کی برصغیر پاک و ہند میں پرانی تاریخ ہے، ماضی میں اسکی جغرافیائی حدود متعدد راجہ و مہاراجہ اور بادشاہوں کے زمانے میں تبدیل ہوتی رہی۔ شمالی ہندوستان فتخ کرنے کے بعد “سکندراعظم” نے اسکے بڑے حصے پر اپنی حکومت قائم کی۔ مختلف تاریخ دانوں کی راۓ کے مطانق لی ہندوستان فتخ کرنے کے بعد “سکندراعظم” نے اسکے بڑے حصے پر اپنی حکومت قائم کی۔ مختلف تاریخ دانوں کی راۓ کے مطابق 327 قبل مسیح میں “سکندراعظم” نے یہ علاقہ ریاست پونچھ کے راجہ “ابھی سارس” کے حوالے کیا۔

Mansehra pakhli Sarkar 1865

Mansehra pakhli Sarkar 1865

“مرایا شاہی” خاندان کے دور میں مانسہرہ ٹیکسلا کا حصہ رہا۔ “اشوکا” اس علاقے کا گورنر تھا جب وہ شہزادہ تھا۔ اپنے باپ “بیدسرا” کی موت کے بعد “اشوکا” نے شاہی اقتدار پر چڑھائی کرکے اس علاقے کو اپنی حکومت کے بڑے حصے وادی گندھارا کے ساتھ شامل کیا۔ بریڑی کی پہاڑی کے نزدیک قصبے کے ساتھ تین چٹانوں پر کندہ کیۓ گۓ “اشوکا” کے شاہی فرمان اسکی یہاں حکومت کے ثبوت ہیں۔ یہ شاہی فرمان یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ علاقہ مشہور مزہبی مرکز تھا۔ جہاں پیروکار یاترا کے لیۓ آیا کرتے تھے۔ عرصے سے ہندو بریڑی کی چوٹی سر کرنے کے بعد “شیوا” کی مزہبی رسومات ادا کرنے آتے تھے۔

BARERI PEAK 2014.

BARERI PEAK 2014. Click on the picture for enlarge

دوسری صدی عیسوی میں سیالکوٹ کے راجہ “سلبھان” کا بیٹا راجہ “رسالو” اس علاقے کو اپنی حکمرانی میں لے آیا۔ مقامی لوگ اسے اپنا ہیرو مانتے تھے اور آج بھی سردی کی راتوں میں والدین اپنے بچوں کو راجہ “رسالو” اور اسکی بیوی رانی “کونکلاں” کی کہانیاں سناتے ہیں۔ جب ایک چینی پیروکار نے برصغیر پاک وہند کا دورہ کیا تو یہ علاقہ کشمیر حکمران “درلاباوردھانہ” کے اختیار میں تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ترکی شاہی اور ہندوشاہی خاندانوں نے پکھلی پر ایک دوسرے کے بعد حکومت کی۔ ہندوشاہی حاہدانوں میں راجہ “جے پال” سب سے نمایاں تھا۔ “محمود غزنوی” نے ہندوستان میں اپنی پہلی جنگی مہم کے دوراں اسے شکست دی۔ “محمود غزنوی” نے مانسہرہ میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے بجاۓ اسے کشمیر تک پہچنے کا راستہ بنایا۔

Akbars Bridge 1860 sirinagar Kashmir.

Akbars Bridge 1860 sirinagar Kashmir. Click on the picture for enlarge.

گیارھویں صدی عیسوی میں ہندوشاہی اقتدار کے زوال کے بعد کشمیریوں نے دوبارہ “کالاشان” کی قیادت میں اس علقے پر قبصہ کیا۔ “۱۰۶۳ سے ۱۰۸۹”عیسوی اور “۱۱۱۲ سے ۱۱۲۰” عیسوی تک شاہ “سوسالہ” نے اس علاقے پر حکومت کی۔ ۱۲ صدی عیسوی کے آخر میں “محمود غزنوی” کے ایک جنرل “رسالت خان” نے اس علاقے پر قبضہ کہا، لیکن “محمودغزنوی” کی موت کے بعد کشمیریوں نے دوبارہ اس علاقے پر قبضہ کیا۔

Akbars Bridge 1860 sirinagar Kashmir.

Khutree Hindu Trader 1868 Hazara Peoples. Click on the picture for enlarge.

اس کے بعد ۱۳۹۹ صدی عیسوی تک مانسہرہ کی تاریخ گمنام رہی جب عظیم مسلم فاتح “تیمورلنگ” نے قابل سے واپسی پر اپنے کحچھ سپاہیوں کو کشمیر اور قابل کے درمیان اس اہم راستے کی حفاظت کے لیے چھوڑا۔ اس وقت مسلمانون نے ہندوؤں کو طاقت سے بے دخل کر دیا اور اپنے اختیارات قائم کیۓ۔ آغاز میں مانسہرہ قابل جے براہ راست اختیارات میں تھا۔ لیکن ۱۴۷۲ عیسوی میں شہزادہ “شہان الدین” نے قابل سے آکر یہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس نے پکھلی سرکار کے نام سے ریاست کی بنیاد رکھی اور گاؤں “گلی باغ” کع دارلحکومت منتخب کیا۔

مغل کے دور میں مقامی ترک لوگوں کے اختیارات کو تسلیم کرایا۔ جیسا کہ مانسہرہ کشمیر کو جانے کا ایک اہم راستہ تھا۔ اس لیے بادشاہ اکبر مانسہرہ کے راستے کشمیر کیا۔ بادشاہ اکبر کے آخری دنوں میں ترکی چیف “سلطان حسین خان” نے مغلوں کے خلاف بغاوت کی۔ اسکی شکایت تھی کہ مغل اسکے زاتی معاملات میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔ مغلوں نے اسکی مغاوت کو کچلنے کے نعد اسے جلاوطن کردیا لیکن نعد مین اسے معاف کردیا اور اسکا ملک اسے واپس کردیا۔ ۱۶۱۹ سے ۱۶۲۰ تک بادشاہ جہانگیر حسین خان کے ساتھ رہا جب وہ کشمیر جا رہا تھا۔ ۱۸ صدی عیسوی کے اوائل ترکوں کے لیے بہت مشکل تھے۔ کیونکہ پختون اور انکی اتحادی فوجوں کی بڑھتی ہوئی جارہیت کی وجہ سے ترکوں کا دور حکونت خاتمے پر تھا۔ سب سے اہم حملہ ۱۷۰۳ سدی عیسوی میں “سید جلال با با” کی قیادت میں تھا۔ انہوں نے ترکوں کو بے دخل کر دیا اور اس علقے پر قبضہ کر لیا۔

Jadoons Afghans 1868 AD

Jadoons Afghans 1868 AD. Click on the picture for enlarge

جب “احد شاہ درانی” نے اپنی سلطنت کو پنجاب اور کشمیر تک پھیلایا تو مانسہرہ اس نۓ احملہ آور کے اختیار میں آگیا۔ “درانیوں” نے مانسہرہ کو مقامی خوانین کے زریعے قابو میں کیا جن میں ریاست امب اور گڑھی حبیب اللھ کے خان سب سےنمایاں تھے۔ ۱۹ سدی عیسوی کے اوائل میں انکی طاقت کمزور ہو گئی جس نے امکے خلاف بغاوت کا راستہ کھول دیا۔ انہون نے قانون کی بہالی کے لیے بہت سے فوجی دستے بھیجے لیکن انکا اختیار دن بہ دن کمزور ہوتا رہا۔ جب سکھ “رنجیت سنگھ” کے زیر قیادت طاقت میں ابھرے تو انہون نے “دورانیوں” سے خودمختار ہونے کا دعوہ کیا۔ “رنجیت سنگھ” نے اپنی حالصہ فوج کو جدید طرز عمل میں منظم کیا اور اپنی اس فوج کو بڑے علاقے پر پھیلانا شروع کیا۔

Gari Habibullah Bridge 1865.

Gari Habibullah Bridge 1865. click on the picture for enlarge

مقامی لوگوں کی سخت مزاحمت کے بعد ۱۸۱۸ صدی عیسوی میں مانسہرہ سکھوں کے قبصے میں آگیا۔ مانسہرہ سے پنجاب تک سکھوں کے الخاق کے فوراً بعد “سید احمد شہید” مجاہدین کے ساتھ مانسہرہ کی زمین پر رونما ہوۓ۔ انہوں نے مقامی لوگوں کے تعاون سے سکھوں کے خلاف بہت سی جنگیں لڑیں۔ آجرکار ۱۸۳۱ صدی عیسوی مین سکھوں اور مجاہدین کے درمیان سب سے خون ریز جنگ بالاکوٹ کے مقام پر ہوئی۔ سکھ جیت گۓ۔ اور “سید احمد” کو انکے دوستوں کے ساتھ شہید کر دیا۔ اسطرح سکھ مانسہرہ میں اور مظبوط ہو گۓ۔ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد سکھوں کی ریاست کا زوال شروع ہوا۔ جسکی وجہ برطانیوں نے پنجاب پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ اسہی دوران باقی ماندہ مجاہدین اور تنولیوں نے سکھ قلع پر حملہ کیا اور بہت سے سکھوں کو غلام بنایا۔۱۹ مارچ ۱۸۴۶ کو سکھوں اور برطانیہ کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا جسکے مطابق راجہ “گلاب سنگھ” نے برطانیہ سے ۷۵ لاکھ میں خریدہ۔

سویل نافرمان کے زیادہ پیلنے اور مزاحمتی تحریکوں کی وجہ سے راجہ نے برطانیوی حکومت کو ہزارہ کو “جموں جہلم بیلٹ” کے بدلے واپس کر لیا۔ برطانیہ نے اس پیشکش کو قبول کیا اور ہزارہ واپس لے لیا۔ انہوں نے امن قائم کرنے کے لیے “جیمزایبٹ” کو ہزارہ میں تعینات کیا۔ اس نے ہزارہ آنے کے بعد سکھ جرنیل “چھتر سنگھ” کو شکست دے کر سکھوں کو مکمل طور پر طاقت سے بےدخل کر دیا۔ ۱۸۴۹ صدی عیسوی میں یہ علاقہ براہ راست برطانیہ کے اختیار میں آ گیا۔ شروع میں برطانیہ کو کسی مزاحمت کا سامنا نہ ہوا لیکن “۳” تین سال بعد کاغان کے “زمان شاہ” نے برطانیہ کے خلاف بغاوت کی۔ “جینز ابیٹ” نے فوجی دستہ کاغان بھیجا جس نے “زمان شاہ” کو اسکے علاقے سے محروم کردیا اور پکھلی کے میدان کی طرف جلاوطن کردیا۔ “۴” چار سال کے بعد برطانیہ نے اسے معاف کیا اور اسے واپس اسکے علاقے میں جانے کی اجازت دی۔

James Abbot Living place Murree Brewery 1864

James Abbot Living place Murree Brewery 1864

آباد علاقوں کے لوگوں کے برعکس پختون قبائل جو مانسہرہ کے مغربی حدود کی طرف آباد تھے چار دہائیوں تک برطانیہ کے لیے مصیبت کی وجہ بنے رہے۔ برطانیہ نے چار سے زیادہ فوجی دستے انکے خلاف بھیجے اور “پختوں کا مسکن” کالاپہاڑ کو تباہ بربادہ کیا۔

علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے برطانیہ نے خفاظتی اقدامات کے طور پر قیادت میں رہنے والے لوگوں کر لقب عطا کیۓ۔ برطانیہ کی آمد کے بعد انہوں نے ہزارہ کو ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا اور اسے تین تحصیلوں “مانسہرہ”،”ابیٹ آباد”،”ہری پور” میں تقسیم کیا اور اسکا پنجاب کے ساتھ الخاق کیا۔ ۱۹۰۱ میں جب”شمال مغربی سرحدی صوبہ” بنا تو ہزارہ پنجاب سے اکگ کرکے اسے شمال مغربی سرحدی صوبہ کا حصہ بنایا گیا۔ برطانیہ کے دور میں مانسہرہ برصغیر پاک وہند میں متعدد مزہبی اور سیاسی تحریکوں میں آگے رہا۔

Temple haripur 1853

علاقے کے لوگ مسلمان آزادی کے سپاہیوں کے ساتھ شامل ہوۓ جو اسلام کو مظبوط بنانا چاہتے تھے۔ مانسہرہ کے لوگوں نے تحریک خلافت میں بڑھ چڑھ کر حصہ کیا۔آخرکار مانسہرہ غیر محکوم ہوگیا۔علاقے کے لوگوں نے برطانیہ حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور مختلف گاؤں میں اپنے اہلکار منتحب کیۓ۔ برطانیہ نے انہیں قابو مین لانے کے لیے سخت اقدامات لیۓ۔ یہاں تک کہ انہوں نے مزاخمت کو کچلنے کے لیے مارشلاء بھی نافظ کیا۔

جب مسلم لیگ نے علیحدہ وطن کی تحریک شروع کی تو مقامی لوگ اس میں شامل ہوۓ اور “قائداعظم” کی زیر قیادت اتحادی حکومتوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کی اور انکے خلاف شاندار کامیابی حاصل کی۔

Quaid-e-Azam in London with Liaquat Ali Khan – 1946.

Quaid-e-Azam in London with Liaquat Ali Khan – 1946. Click on the picture for enlarge.

بھٹو” کی طرز حکومت نے مانسہرہ کو ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا۔ جس میں دو تحصیلیں “مانسہرہ” اور “بٹگرام” تھی۔ ۱۹۸۳ میں بالاکوٹ جو کہ کاغان ویلی راستے ہے اسے بھی ڈسٹرکٹ مانسہرہ میں تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ آج مانسہرہ قدرتی خوبصورتی کی ایک جگہ ہے۔ گرمیوں میں لوگ یہاں پاکستان کے دور علاقوں اور دنیا سے تفریح کے لیۓ آتے ہیں۔ یہاں وہ امن اور سکون محسوس کرتے ہیں

2 comments

  1. Malik Taj Muhammad

    Very interesting history i read on the given site, but we would like to read more about the nations living there, like tanoli, Awan, sawati and gujjar etc.
    May it please be updated it will be highly appreciated.

  2. Thanks Malik Taj Muhammad, Stay Tune 🙂

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*