کان کی صفائی کس طرح کی جائے؟

اگر آپ کو اکثر اوقات روئی کی تیلیوں یا کسی بھی چیز سے اپنے کان سے میل صاف کرنے کی عادت ہے تو ایک بار پھر سوچ لیجیے، کیونکہ اس طرح صفائی تو دور کی بات الٹا آپ اپنے کان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اپنی قوت سماعت بھی متاثر کر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ کچھ کیسز میں، لمبے عرصے تک کانوں کی ایسی شدید صفائی شاید آپ کو قوتِ سماعت سے بھی محروم کردے۔

آپ کو یہ جان لینا لازمی ہے کہ کان کی تنگ نالی مختلف چیزوں کو ڈالنے کے لیے نہیں بنی۔ بلاشبہ صفائی ایک نیکی ہے لیکن صفائی کرنے کا بھی ایک طریقہ ہونا چاہیے۔ آپ کے کانوں میں موجود تھوڑا سا چرک گوش (کان کا میل) کانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث نہیں بن سکتا کیوں کہ یہ ایک قدرتی چیز ہے اور کچھ مقاصد کے لیے کارآمد ہوتی ہے۔ یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کون سے مقاصد ہوسکتے ہیں؟

تو جناب ماضی میں یہی چرک گوش ہونٹوں کو نرم رکھنے اور کھلے زخموں پر مرہم کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ چرک گوش اور بھی بہت کچھ کر سکتا ہے، یہ جسم میں موجود آلودہ کیمائی اجزا کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے اور کچھ طبی کیفیات کی تشخیص کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، اور یہ آپ کے بارے میں بھی بہت کچھ بتا دیتا ہے. یہاں میرا مطلب آپ کی ذاتی صاف ستھرائی سے نہیں ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ کانوں کی صفائی کا ذکر کرنا پسند نہیں کرتے اور زیادہ تر اس چیز کے بارے میں اتنا زیادہ سوچتے بھی نہیں ہیں۔ مگر ہم اس چرک گوش سے متعلق کچھ ایسے حقائق سے پردہ اٹھائیں گے جو اتنے عام نہیں ہیں۔

ذیل میں کچھ ایسی معلومات دی جارہی ہیں، جو آپ کے لیے دلچسپ ثابت ہوسکتی ہیں:

ایک قدرتی حفاظتی ڈھال

چرک گوش کے فوائد میں سے ایک اس کا کانوں کو نم رکھنا ہے، ویسے ہی جیسے آنسو آنکھوں کو نم رکھتے ہیں۔ چرک گوش میں موجود ویکس/موم آپ کے کانوں کو خشکی یا خارش کے احساس سے دور رکھتا ہے۔

یہ آپ کے کانوں کو (نسبتاً) صاف رکھتے ہیں

کانوں میں بننے والا موم یا ویکس، مخروج چکناہٹ اور مردہ کھال کے خلیات کا امتزاج ہوتا ہے، اس کے ساتھ مٹی اور دھول کانوں میں داخل ہونے سے پہلے اس موم میں پھنس جاتی ہے۔ لیکن اس کا دلچسپ حصہ یہ ہے کہ یہ دھول مٹی کو اندر نہیں رکھتا بلکہ اس کی صفائی کر کے باہر نکال دیتا ہے۔ کھانے اور بات کرنے کے دوران ہمارے منہ کی حسب معمول حرکات، کان میں موجود موم/ویکس کو باہر کی طرف دھکیل دیتی ہیں، روئی سے صفائی کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کو چرک گوش کو اس کے حال پر ہی چھوڑ دینا چاہیے جب تک کہ آپ شدید چرک گوش کی علامات کو محسوس نہ کرلیں، ان علامات میں سماعت کا بدل جانا بھی شامل ہے۔ بلکہ کان کو صاف کرنا صفائی سے زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے کیوں کہ اس طرح وہ موم کان کی نالی سے نکلنے کے بجائے مزید اندر کی طرف دھکیلی جا سکتی ہے۔

آلودگی کی نشاندہی

جسم سے خارج ہونے والے دیگر اجزا کی طرح چرک گوش بھی جسم میں موجود زہریلے اجزا، جیسے ہیوی میٹلز کی نشاندہی کر سکتا ہے، لیکن اس چیز کی نشاندہی کے لیے یہ ایک موزوں جگہ نہیں ہے اور ایک عام بلڈ ٹیسٹ سے زیادہ قابل اعتماد بھی نہیں ہے۔

کان کا چرک گوش اور جسم کی بو

بعض لوگوں میں نم چرک گوش بنتا ہے جو کان میں خشک ہوتا ہے۔ اگر یہ سفید اور چھلکے نما ہے تو ممکنہ طور پر اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پسینے میں ایک خاص کیمائی جزو کی کمی ہے جو آپ کے جسم کی بو کی وجہ بنتا ہے۔ جبکہ سیاہ اور چپچپا چرک گوش ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو ایک چھوٹا ڈیوڈرنٹ اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ مگر اس کے بعد بھی شاید آپ خود کو سونگھیں گے تو بھی وہی بو برقرار محسوس ہوگی۔

دباؤ یا خوف چرک گوش کی پیداوار میں اضافہ کرسکتا ہے

آپ کے کان میں موجود اپوکرائین گلینڈز یا وہ گلینڈز جو موم کو خارج کرنے میں مدد کرتے ہیں، آپ کے پسینے میں بو کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ امریکن اسپیچ لینگوئج ہیئرنگ ایسوسی ایشن کے مطابق جس طرح دباؤ، خوف اور دوسرے شدید جذباتی رد عمل سے پسینہ زیادہ آتا ہے (اور بہت بری بو بھی پیدا ہوتی ہے)، ویسے ہی چرک گوش کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

نسلی اعتبار سے ایئر ویکس یا چرک گوش میں تفریق

ایشائی اور غیر ایشائی لوگوں میں مختلف اقسام کے چرک گوش پیدا ہوتے ہیں۔ مونیل کمیکل سینسز سینٹر، فلاڈیلفیا کے تحقیق کاروں کے مطابق پسینے کی طرح چرک گوش میں موجود کیمیائی اجزا مختلف نسلوں میں مختلف ہوتے ہیں اور بو پیدا کرنے والے مالیکیولز مشرقی ایشیائی لوگوں کے مقابلے کاکیشائیوں میں زیادہ ہوتے ہی.

ایئر کینڈل سے پرہیز کریں

اگر ہم روئی سے کان صاف نہیں کر رہے تو ایئر کینڈل یا کانوں میں موم بتی جلانے کو کان کی صفائی کا مؤثر اور محفوظ طریقہ تصور کیا جاتا ہے جو بالکل بھی درست نہیں۔ اگر آپ کو میری اس طرح کان صاف کرنے کی بات غیر معقول لگتی ہے تو مہربانی فرما کر ان ایئر کینڈلز یا کانوں کی موم بتی (جی ہاں ایسی موم بتیاں موجود ہیں) کے بارے میں جان لیں۔

یہ ایک خالی موم بتی ہوتی ہے، جسے ایک طرف سے جلایا جاتا ہے جبکہ دوسرا سرا کان میں داخل کردیا جاتا ہے۔ مگر تحقیق بتاتی ہے کہ یہ عمل خطرناک ہونے کے ساتھ غیرموثر بھی ہے۔ اس طرح نہ صرف جلنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ کان کی نالی بھی بند ہوسکتی ہے یا کان کے پردے میں شگاف بھی پڑسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ واقعی اپنے کان کو صاف کرنے کے حوالے سے پریشان ہیں تو ہر دوسرے دن تھوڑا گرم پانی کانوں میں ڈال کر صاف کرلیں۔ وہ پانی عام طور پر کان میں موجود موم کو گرمانے اور نکالنے کے لیے مناسب گرمائش فراہم کر دیتا ہے۔

کانوں کی صفائی کے لیے سرنج سے زیادہ ویکیوم بہتر ہے

اگر آپ کو واقعی چرک گوش صاف کرنا ہے تو اس کے مختلف طریقہ کار ہیں جن میں سرنجنگ سے لے کر ویکیومنگ شامل ہیں۔ بھلے ہی کم مگر سرنجنگ یا ایئر ایریگیشن (پریشر سے پانی داخل کرنے کے عمل) میں بھی مختلف خطرات موجود رہتے ہیں جن میں کانوں کے پردوں میں شگاف، کان کے درمیانی حصے میں انفیکشن، کان کی نالی کا بیرونی انفیکشن یا کان میں سیٹی جیسی آوازوں کا آنا شامل ہیں۔

ان خطروں سے بچنے کے لیے لوگ مائیکرو-سکشن ٹریٹمنٹ کروانے جاتے ہیں جہاں ان کے کانوں کی صفائی ایک چھوٹے سے ویکیوم کلینر نما آلے سے کی جاتی ہے۔ اس عمل کو کرنے کے دوران بذریعہ مائیکرو اسکوپ کان کی نالی کو دیکھا جاتا ہے۔ یہ اسی طرح کا ہی آلہ ہے جو ڈینٹسٹ دانتوں کی فلنگ کے دوران منہ میں موجود پانی کو کھینچ کر خشک کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*