30

مانسہرہ ڈھوڈیال فیزنٹری مانسہرہ وائلڈ لائف

مانسہرہ . جسے ایشیاء کی سب سے بڑی فیزنٹری ھونے کا شرف حاصل ھے، اِسکے متعلق چند اہم گزارشات اور سفارشات محکمہ وائلڈ لائف کے DFO محمد حسین خان اور انچارج محمد اشرف کی زبانی پیش ہیں، مانسہرہ کے پُر فضا مقام ڈھوڈیال میں قائم ايشیاء کی سب سے بڑی فیزنٹری ڈھوڈیال فیزنٹری واقع ھے جس کا کُل رقبہ 98 کنال ھے.
اِس فیزنٹری میں تقریباً دُنیا کی 52اقسام میں 38 اقسام کے خوبصورت پرندوں کی نایاب نسلیں موجود ہیں، جن میں نایاب ترین نسل ۱ رینگنٹ فیزنٹ ۲ رائیوز ۳چئیر فیزنٹ ۴ سِلور فیزنٹ ۵ لیڈی ایمبرسٹ ۶ یلو گولڈن ۷ ریڈ گولڈن اور اِن کے علاوہ دُنیا کا سب سے نایاب مور گرین جاوا کی کامیاب بریڈنگ کا کام جاری ھے.

اس کے علاوہ کاغان سے تعلق رکھنے والے خوبصورت ہرن اور لیپرڈ ٹائیگر بھی موجود ھے، شروع میں جب جنگلی حیات کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی تھی اور تقریباً ان پرندوں کی نسلیں معدوم ھوتی جارھی تھیں تب آہستہ آہستہ اُن کی نسل کو بڑھانے کا ذمہ ڈھوڈیال فیزنٹری نے اپنے سَر لیا۔

آج بعض اِقسام کے پرندوں کی اتنی بڑی تعداد موجود ھے جس کو فائر شوٹرز کے حوالے کیا جاسکتا ھے، ، جس میں چیئر فیزنٹ جسے شکاریوں، لومڑی ، کتوں اور دیگر نے تقریباً ختم کر دیاتھا، اسکی آبادکاری پر دوبارہ کام شروع کیاگیا،اور جب انکے اَنڈے حاصل کیۓ گیۓ تو وہ فرٹائل نہ ھوسکے، جس کے لیۓ U.K سے ایکسپرٹس منگواۓ گیۓ، اوراُنکی خدمات حاصل کر کے ان اَنڈوں کو فرٹائل کیا گیا۔

ان ایکسپرٹس کے پاس بہت سے ریسورسز موجود ہیں، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ مانچسٹر میںایک چھوٹا سا چڑیا گھر ھے،مگر اس سے ملحقہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس کو ہر 6 دِنوں بعد وزٹ کرواتی ھے، جنھیں ہاتھی سے لیکر چوہے تک کا لیکچر دیا جاتا ھے، یہی نہیں بلکہ وہاں کے طلباء جوکہ جنگلی حیات پر اس درجہ تک ریسرچ کرتے ہیں کہ ایک چھوٹی نسل کے چوہے پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں