7

دارلحکومت میں بارود سے بھری گاڑی سے حملہ ، تحریر سید مہدی بخاری

دارلحکومت میں بارود سے بھری گاڑی سے حملہ ہوا ہے اور کرتے دھرتوں کی ساری توجہ حکومت بچانے یا گرانے پر مرکوز ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہیں۔ عدالتیں اسمبلی نہ ٹوٹنے کی ضمانتیں مانگ رہی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اسمبلیوں پر ججوں کو ہی نگران بنا دینا بہتر ہے۔ پارلیمان ججز چلائیں۔اکانومی ادارہ چلائے۔ اور سیاستدانوں کو رومی سٹائل تھیٹر بنا کر دیا جائے جہاں گلیڈئیٹر سٹائل فائٹ منعقد ہوتی رہا کرے۔

مسئلہ ریاست کا قدیمی اور حقیقی یہ ہے کہ ہر ادارے نے دوسرے ادارے کی شلوار پہن رکھی ہے۔

فریش ٹھوکر کھائے انقلابیوں سے پنجاب اسمبلی ٹوٹنی تھی نہ ان کا ارادہ تھا۔ ارادہ ہوتا تو خیبر پختونخواہ اسمبلی کو تحلیل ہونے سے کون روک رہا ہے۔ یہ سب پولیٹیکل سٹنٹس دیکھتے پاکستان پچھہتر سال اور میں چالیس کا ہو گیا ہوں مگر آفرین ہے اس ریاست پر جو ہنوز ٹین ایج میں جی رہی ہے اور ویسی ہی حرکات کرتی چلی جا رہی ہے۔

یہاں نظام کو عدالتیں تحفظ دیتی ہیں۔ عدالتوں کو ادارہ تحفظ دیتا ہے۔ ادارے کو سیاستدان کاندھا دیتے ہیں اور سیاستدانوں کو یہی نظام تحفظ دیتا ہے۔ ایک دائرے کا سفر ہے۔ سارا نظام ویل آئیلڈ مشین ہے جس میں جو پرزہ فٹ نہیں ہوتا وہ بدل دیا جاتا ہے۔

سال 2022 میں سات لاکھ ہونہار پاکستانی ہجرت کر چکے ہیں۔ ان میں ساٹھ ہزار انجینئیرز، نوے ہزار میڈیکل گریجوئٹس اور لگ بھگ اتنے ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس کے دیگر شعبے سے وابستہ افراد ہیں۔ برین ڈرین تین دہائیوں سے جاری ہے جس میں وقت کے ساتھ ڈالر کے ریٹ جیسا چڑھاؤ آیا ہے۔

اپنے چالیس سال کھوہ کھاتے میں بھگت گئے۔ اس ملک کے سافٹ امئج کی خاطر زندگی گذار دی۔ اب تو بیگم بھی شدت سے مطالبہ کرنے لگی ہے کہ آپ آخر کب تک یہیں جمے رہیں گے۔ میں خود یہ سوال خود سے کئی بار پوچھ چکا ہوں۔ پھر گھبرا کر عباس تابش کی غزل کے اشعار یاد آ جاتے ہیں۔

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں