7

سال 2022 سیاحت کے فروغ کیلئے کیسا ثابت ہوا؟

مانسہرہ ۔ بڑھتی مہنگائی،بارش،سیلاب،سڑکوں کی خستہ حالی اورسیاسی بے چینی کیوجہ سے 2022 میں ہزارہ ڈویژن بھر میں سیاحت کے کاروبار سے منسلک لاکھوں افرادمعاشی پریشانیوں کا شکار ہوگئے۔

ایک اندازے کے مطابق ہرسال 15 سے 20 لاکھ افراد سیاحت کے لئے ہزارہ ڈویژن میں گلیات اور کاغان وناران کی حسین وادیوں ،برف پوش پہاڑوں اور گنگناتے جھرنوں کا نظارہ کرنےآتے ہیں۔

تاہم اس سال رمضان کے بعد سیاحت کاموسم شروع ہوا تو سیاسی دھرنوں کے بعد سیلاب نے رہی سہی کسر نکال دی ،بارش و سیلاب سےوادی کاغان کی ٹوٹی سڑکوں اور ناران کے پاس ٹوٹے پل کی مرمت کاکام تاحال نہیں ہوسکا ۔

جبکہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے اعلان کردہ منصوبوں پر فنڈز کی کمی کے باعث کام بند ہے۔صوبائی محکمہ سیاحت نے بھی ہزارہ ڈویژن میں سیاحت کے فروغ کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

ناران ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہیکہ سیلاب بارشیں روڈ ہر چیز کی پریشانی تھی۔ٹورازم نے ہمارے علاقے کے لئے کوئی کام کوئی ایونٹ نہیں رکھاکہ اس علاقے کو کسی طرح پروموٹ کریں،ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت الحمدللہ ملازموں کو تنخواہیں کسی طریقے سے مانگ مونگ کے دیکر گزارہ کرکےواپس آئے ہیں گھر کیونکہ ہمارے علاقے کاکاروبار بالکل زیروتھا۔

وادئی کاغان میں سیاحتی کاروبارسے کروڑوں روپے کمانیوالے اس سال قرضدارہوکر گھر گئے ہیں۔

ہوٹل مالکان کا کہنا ہیکہ اس دفعہ حالیہ جو سیزن گزرالوگوں کا اتنانقصان ہواہے جو مقامی ہوٹل مالکان تھے انکا بھی نقصان ہوااورجوباہر سے لوگ آئے جنہوں نے کرائے پر ہوٹل لئے تھے انکا بھی کروڑوں کا نقصان ہواباقی ٹرانسپورٹ اورکسی بھی شعبے کے جو کاروبار ہیں وہ سارے لوگ قرضدارہوکر گئے ہیں ۔

ضلع مانسہرہ کے سیاحتی علاقوں میں دسمبر تک سیاحوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے مگر اس سال مجبوری کے تحت اکتوبر میں ہی ہوٹل بند کردینے والے افراد نے حکومت سے مددکی اپیل کردی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں