13

صنعتکاروں کے بعد اب ڈاکٹروں کو بھتے کیلئے نامعلوم نمبروں سے کالیں موصول ہورہی ہیں

مانسہرہ ۔ خیبرپختونخوا میں صنعتکاروں کے بعد اب ڈاکٹروں کو بھتے کیلئے نامعلوم نمبروں سے کالیں موصول ہورہی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ایک مہینے کے اندر 30سے زائد ڈاکٹروں کو بھتے کی کالیں موصول ہوئیں۔

سینئر ڈاکٹروں سے پیسوں کا مطالبہ کرکے اغوا یا پھر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ صوبائی ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر قاضی شہباز محی الدین کے مطابق انہیں نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی اور دس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔

نامعلوم کالر نے پہلے میری فیملی کے بارے میں بتایا پھر گھر کا ایڈریس اور گاڑی کا نمبر بھی بتایا۔

کالر نے پیسے نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی۔ڈاکٹر قاضی کے مطابق پشاور کے دیگر سینیئر ڈاکٹروں کو بھی بھتے کی کالیں موصول ہوئی ہیں مگر وہ ڈر کی وجہ سے سامنے نہیں آرہے ہیں۔

ان کے مطابق بھتے کی ان کالوں کی وجہ سے پوری کمیونٹی تشویش میں مبتلا ہے۔کرک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیراز خٹک بھی بھتہ خوروں سے پریشان ہیں۔

ان کادعویٰ ہے کہ انہیں وٹس ایپ پر افغانستان کے نمبر سے کال آئی اور 20 لاکھ روپے امداد کا مطالبہ کیا گیا۔
جب میں نے انکار کیا تو دھمکیاں دی گئیں۔

مجھے ڈر ہے کہ ہسپتال سے کلینک یا گھر جاتے ہوئے کوئی مجھے اغوا نہ کرلے۔ ہمیں حکومت تحفظ فراہم کرے ورنہ ہم ملک چھوڑنے پرمجبورہوجائیں گے۔

ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے صوبائی ترجمان ڈاکٹر فیصل بارکزئی کا بھی دعویٰ ہے کہ صوبے کے سینیئر ڈاکٹروں کو بھتے کالیں آرہی ہیں۔

زیادہ تر ان ڈاکٹروں کو کالیں آرہی ہیں جو اپنا کلینک چلارہے ہیں۔ڈاکٹر فیصل کے مطابق ڈاکٹروں نے اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دی ہیں مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود لائسنس جاری نہ ہوسکے۔

گذشتہ روز ضلع بنوں میں ڈاکٹر کو اغوا کرنے کی کوشش کی بھی گئی جس کے خلاف آج تین بڑے ہسپتالوں میں او پی ڈی بند کرکے احتجاج کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی ایکٹ تو اسمبلی سے پاس کرایا مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ادھر صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ کہ ابھی تک کسی ڈاکٹر نے ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں اس معاملے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

اگر ڈاکٹرز یا ہیلتھ ورکرز کو ایسا کوئی مسئلہ ہے تو ہم ضرور ان کی مدد کریں گے۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز متعلقہ تھانے جاکر مقدمہ ضرور درج کریں تاکہ تفتیش شروع کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں