21

پاکستان کی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں ۔ تحریر اختر نعیم صاحب

پاکستان کی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں ۔ تحریر اختر نعیم صاحب
اس وقت ملک کی جو سیاسی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے اس پر ہم نے مختلف احباب سے ان کی رائے لی، ہم چاہتے تھے کہ ہر شخص کے نام کے ساتھ اس کی رائے لکھی جاتی

لیکن ہمارے اکثر احباب اپنا نام ظاہر کرنے سے گھبراتے ہیں وجہ صاف ظاہر ہے کہ کوئی کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ پہلے ہم قومی سطح پر بات کریں گے اور بعد ازاں علاقائی۔

مجموعی طور پر جو بات سامنے آئی ہے اس کے مطابق عوام سیاست دانوں سے اُکتائے ہوئے لگتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نمود نمائش اور ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

انھیں صرف خواص سے دلچسبی ہے عوام سے نہیں، ووٹ تو زیادہ عام لوگوں کے ہوتے ہیں لیکن اکثر سیاسی عام لوگوں کے بجائے خواص کا خیال رکھتے ہیں، اب صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی معمولی سے بھی انقلابی حالات سامنے آتے ہیں تو عوام اس کا خیر مقدم کریں گے۔

اس وقت کوئی بھی رہنماء یہ دعوٰی نہیں کرسکتا کہ اس نے اپنے ذاتی مفاد پر عوامی یا قومی مفادات کو ترجیح دی ہو۔
جو حالات سامنے آرہے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے عام انتخابات قریب ترین نہیں ہیں۔ موجودہ حکومت بھی گھر چلی جائے گی، ابتداء میں اپنے اپنے شعبہ میں مہارت رکھنے والوں پر مشتمل حکومت بنے گی اور پھر اس کا دورانیہ بڑھ جائے گا۔ موجودہ تمام سیاستدانوں کا بلا تفریق احتساب شروع ہوجائے گا جس پر عوام خوشی کا اظہار کریں گے۔

(یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل ہو جس کے امکانات بہت کم ہیں۔ ویسے سب سیاسی جماعتیں اپنی بقاء کے لئے قومی حکومت پر زور دیں گی)

جہاں تک احتساب کا تعلق ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کے لوگوں کی اکثریت اس کی زد میں ہوگی۔ اس کے بعد ہی انتخابی عمل شروع ہوگا۔ جس کے بعد پاکستان میں ایک نئی قیادت سامنے آئے گی ، صورتحال ایسی پیدا ہوگی جیسے جمہوریہ ترکیہ میں طیب اردگان کے آنے کے بعد پیدا ہوئی ہے اور اسی میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا، لیکن بعض بیرونی طاقتیں اس ترقی میں رکاوٹ کا باعث بنیں گی کیونکہ وہ پاکستان کو ہمیشہ اپنا دست نگر دیکھنا چاہتی ہیں، یہ بھی ظاہر ہورہا ہے۔

موروثی سیاست کے خاتمے کی جانب بھی عوامی رجحان ہوگا۔ دعا کریں آنے والے ایام پاکستان اور اسلام کے حق میں ہوں، انشااللہ اگلے مرحلے میں اس بحث کو سمیٹ کر علاقائی سیاست پر بات کریں گے کہ ضلع مانسہرہ اور ہزارہ میں سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں