6

ساہیوال، ملاوٹ مافیاء کے چھکے، پنجاب فوڈ اتھارٹی کہاں ہے

تحریر : نوید مسعود ہاشمی : ساہیوال سے خبر آئی ہے کہ یہاں جعلی دودھ مکھن،گھی اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کا مکروہ دھندہ کرنے والی فیکٹریوں کی بھرمار ہوچکی ہے۔ ان فیکٹریوں میں کیمیکل سے تیار شدہ دودھ دہی اور مکھن آج کل مارکیٹوں میں سیل کیا جارہا ہے۔

یہ دودھ دہی دودھ، دہی نہیں، بلکہ سفید زہر ہے،دودھ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایسی نعمت ہے،جو امیروغریب،بچوں،بوڑھوں،جوانوں عورتوں اور مردوں میں یکساں طور پر پسندیدہ،غذا ہے، دودھ کے بے شمار فوائد ہیں ،دودھ دہی ایسی غذا ہے جسے دنیا بھر میں بہترین اور مکمل غذا سمجھا جاتا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ بے شمار بیماریوں کا علاج ہے۔

دودھ دہی کو صحت کے لئے انتہائی مفید ترین غذا تسلیم کیا جاتا ہے، حکما تو خالص دودھ میں پتی ڈالنے کے بھی مخالف تھے،ماضی میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کی جاتی تھی جو شائد اس قدر نقصان دہ نہیں ہوگی، جتنا آج کل جعلی دودھ دہی اور اس سے تیار ہونے والا گھی مکھن نقصان دہ ہے۔

خبر کے مطابق ،آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ جعلی دودھ کسی جانور سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ مختلف قسم کی مضرصحت چیزوں کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے، دور کی بات نہیں، آج سے کچھ برس پیچھے چلے جائیں تو گرمی شروع ہوتے ہی شہر میں دودھ اور دودھ سے بنی دیگر غذائیں نایاب ہوجایا کرتی تھیں یعنی گرمی کے موسم میں جانور کم دودھ دیتے تھے اور طلب میں اضافے کے باعث دودھ میں کمی رہتی تھی۔

ماضی کے مقابلے میں آج کل آبادی میں بھی کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اور جانور بھی کم پالے جاتے ہیں،پھر بھی شہر کی تمام فیکٹریوں اور ملک شاپس پر دودھ وافر مقدار میں دستیاب رہتا ہے۔

جعلی کیمیکل والے دودھ کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،کئی جعلی کیمیکل سے تیار دودھ ساز کمپنیاں اور فیکٹریاں پکڑی جاچکی ہیں،جیسا کہ سہیل ڈیری اور خادم ڈیری وغیرہ، وغیرہ،جعلی دودھ دہی اور گھی میں جو خطرناک اجزا استعمال کئے جاتے ہیں،اس میں یوریا کھاد،کپڑے دھونے والا سرف، ہائیڈروجن، فارمولین، نشاستہ مایا،کوکنگ آئل یا ڈالڈا گھی،میگنیشیئم سلفیٹ،ملک پاوڈر،دودھ کی پی ایچ،اساس اور تیزاب میں توازن برقرار رکھنا، گاڑھاپن بڑھانے کے لیے بال صفا پاوڈر استعمال کیا جاتا ہے۔

بورک ایسڈ اور عام سادہ پانی،پسے سنگھاڑے،کیلشیئم ہائیڈرو آکسائیڈ،سکم ملک پاوڈر اور پینٹ بھی ڈالا جاتا ہے،ماہرین کے مطابق جعلی دودھ پینے سے ابتدائی طور پر پیٹ کی تمام بیماریاں، تیزابیت، قے، پیچش،فوڈپوائزننگ،بچوں کے دانتوں کا خراب ہونا ،گروتھ کم ہونا،نظر کا کمزور ہونا اور دیگر ایسی بیماریاں، اس جعلی دودھ گھی مکھن سے کھانے والی اشیا ء کے مسلسل استعمال سے آگے بڑھ کر کینسر ہائیپر ٹینشن،کڈنی،لیور، لبلبے کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

آج معاشرہ ایسے ہی امراض کا تیزی کے ساتھ شکار ہو چکا اور ہو رہا ہے،اس ہولناک خبر کو پڑھنے کے بعد خاکسار نے ساہیوال کے باخبر صحافی مزمل نواب سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے پوچھا کہ جعلی دودھ،جعلی دہی جعلی دیسی گھی،جعلی مکھن تیار کرنے والے انسانیت کے دشمنوں کے خلاف”پنجاب فوڈ اتھارٹی”اور ساہیوال انتظامیہ کا کیا کردار ہے؟

ان کا جواب تھا کہ اگر ساہیوال انتظامیہ اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران ”دودھ ملاوٹ مافیائ”کے خلاف قانون کو بروئے کار لاتے اور ملاوٹ مافیاء کے بدمعاشوں کو گرفتار کر کے ان کی فیکٹریاں سیل کر دیتے تواس مکروہ دھندے کو قابو کیا جاسکتا تھا۔

لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی ساہیوال اگر جعلی دودھ،مکھن ، گھی تیار کرنے والی کسی فیکٹری پر چھاپہ مار بھی لے تو ملاوٹ مافیاء کے خرکاروں کو وارننگ دے کر اور تھوڑا سا جرمانہ کرکے چھوڑ دیا جاتا ہے، جیسا کہ سہیل ڈیری اور خادم ڈیری پر پنجا ب فوڈ اتھارٹی نے چھاپہ مار کر وہاں سے جعلی دودھ،دہی مکھن گھی وغیرہ تیار کرنے کے ثبوت بھی پکڑے ،مگر پھر ملاوٹ مافیاء مالکان کو وارننگ دے کراور جرمانہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ ملاوٹ مافیاء کے خرکاروں سے جرمانے اور ”نذرانے”لے کر انہیں مزید انسانی جانوں سے کھیلنے کے لئے چھوڑ دینا کیا انسانیت سے دشمنی کے مترادف نہیں ہے؟افسوس کہ ہمارے سرکاری محکموں کا آئوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے،دیکھنے والی بات یہ ہے کہ دودھ دہی ،دیسی گھی اور خالص مکھن کے نام پر عوام کو زہر کھلانے والے ”خرکاروں”کا تعلق کن گھرانوں سے ہے؟

انسانوں کو مختلف بیماریوں کے جنگل میں دھکیلنے والے خرکاروں کے بچپن میں نجانے تربیت کی کون سی کمی رہ گئی تھی کہ جس کا انتقام وہ جعلی دودھ،جعلی دہی،جعلی گھی،جعلی مکھن بیچ کر ساہیوال کے عوام سے لے رہے ہیں ،سچی بات یہ ہے کہ ملاوٹ شدہ دودھ،دہی مکھن صرف ضلع ساہیوال تک ہی محدود نہیں،بلکہ پشاور سے لے کر کراچی اور گوادر تک یہی صورت حال ہے۔

”آہ”ہم جس بوسیدہ نظام میں جکڑے ہوئے ہیں۔یہ نظام ہر دو نمبر کام کو سپورٹ مہیا کرتا ہے،اسی لئے یہ خاکسار اپنے کالموں میں اکثر پاکستان میں نظام اسلام کے نفاذ کی ضرورت واہمیت پر زور دیتا چلا آ رہا ہے۔
جعلی دودھ کو دوکاندار ایسے برتن میں رکھتے ہیں جس کے نیچے چھوٹی سی موٹر نصب ہوتی ہے یا دوکاندار دودھ کو بار بار ہلاتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس برتن میں ایک عدد ٹمپریچر بتانے والا میٹر بھی نصب ہوتا ہے۔

فریج کے اندر بھی محفوظ دودھ کو دوکاندار سیل کرنے کے وقت ہلاتے رہتے ہیں،جعلی دودھ دہی گھی ساہیوال شہر میں عام ہوچکا ہے،اس سفید زہر کو فروخت کرنے والا مافیاء انسانی زندگیوں سے کھیل رہا ہے، ساہیوال انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے شہریوں نے اپیل کی ہے کہ ان مافیاز کے خرکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے مثالی سزائیں دی جائیںتاکہ ان کے ”شر”سے انسان نجات پا سکیں۔

دودھ کے نام پر سفید زہر بیچنے والے انسانیت کے بدترین دشمن اور معاشرے کے نا سور ہیں،انسانیت کے ان دشمنوں کو جیلوں میں ہونا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں