9

سیاحتی مقامات تک رسائی کے لئے ضرورت کی بنیاد پر ٹریکس بھی بنائے جائیں: محمود خان

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور صوبے میں موجود آرکیالوجیکل سائٹس کی تزئین و آرائش پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود شعبہ سیاحت کے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے محکمہ سیاحت کو ہدایت کی ہے کہ سیاحتی مقامات تک رسائی کے لئے ضرورت کی بنیاد پر ٹریکس بھی بنائے جائیں۔

سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور صوبے میں آثار قدیمہ کے مقامات کی بحالی کے منصوبوں کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے واضح کیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران صوبائی حکومت نے سیاحت کے شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے۔

جس کا مقصد قومی اور بین الاقوامی سیاحوں کو صوبے کی جا نب راغب کرنا اور سیاحتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری خزانہ اکرام اللہ، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ شاہ محمود، سیکرٹری سیاحت طاہر اورکزئی، ایم ڈی پی کے ایچ اے ، ڈی جی کے پی سی ٹی اے اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کو مختلف اضلاع میں شعبہ سیاحت کی سڑکوں کے منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ کائیٹ پراجیکٹ کے تحت 22 کلومیٹر منکیال روڈ کی بحالی و اپ گریڈیشن اور 24 کلومیٹر ٹھنڈیانی روڈ پر کام جاری ہے جو اکتوبر 2024 ءتک مکمل کرلیا جائے گا۔

ان منصوبوں پر بالترتیب 3.4 اور 2.5 ارب روپے لاگت آئے گی ۔ اس کے علاوہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ہزار ہ ڈویژن میں 18 کلومیٹر منڈی مالی روڈ پر 38 فیصدکام مکمل ہے، 10 کلومیٹر شوگران روڈ پر 54 فیصد، 9 کلومیٹر گھنول پاپرنگ روڈ پر 30 فیصد، 15 کلومیٹر مانور ویلی روڈ پر تقریباً41 فیصد، 12 کلومیٹر نواز آباد تا منڈی روڈ پر 31 فیصد عملی کام مکمل کرلیا گیا ہے اور مجموعی طور پر یہ منصوبے 4.6 ارب روپے کی لاگت سے رواں سال مکمل کئے جائیں گے۔

اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک جو روڈ تعمیر کئے جارہے ہیں ان میں 14 کلومیٹر کافر بانڈہ روڈ پر 41 فیصد، ساڑھے چار کلومیٹر برج بانڈہ روڈ پر 61 فیصد،7 کلومیٹر ڈاگ سر چرنو روڈ پر 40 فیصد، 9 کلومیٹر چیل بشی گرام روڈ پر 47 فیصد، 4 کلومیٹر بیلہ بشی گرام روڈ پر 27 فیصد، 4 کلومیٹر ارین درل روڈ پر 21 فیصد، 6 کلومیٹر مدین بشی گرام پر 31 فیصد، 3 کلومیٹر گودر لیک پر 16 فیصد، 3 کلومیٹر اناکر روڈ پر 20 فیصد اور 8 کلومیٹر مرغزار تا ایلم روڈ پر 49 فیصد عملی کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔ یہ منصوبے 4.8 ارب روپے کی لاگت سے رواں سال مکمل کئے جائیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں مذہبی وثقافتی سیاحت کو بھی فروغ دینے کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ۔ کائیٹ پراجیکٹ کے تحت دو مساجد دو سٹوپا اور تین عجائب گھر کی بحالی اور تزئین و آرائش پر کام جاری ہے ۔ بھمالہ سٹوپا پر 38 فیصد عملی کام مکمل کرلیا گیا ہے ۔ چکدرہ میوزیم دیر پر 95 فیصد، ہنڈ میوزیم صوابی پر 93 فیصد ، شاہ پولہ سٹوپا لنڈی کوتل پر 63 فیصد اور کالام و اوڈی گرام مساجد پر 60 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے ۔ یہ منصوبے مجموعی طورپر 26 کروڑ روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ کمراٹ مداکلشت کیبل کار منصوبے کی پری فزبیلیٹی پر بھی خاطر خواہ پیشرفت یقینی بنائی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاحوں اور سیاحتی مقامات کی حفاظت کیلئے ٹوارازم پولیس قائم کی گئی ہے اور حال ہی میں ٹورازم پولیس کا پہلا بیچ پاس آﺅٹ ہو چکا ہے ۔ وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ ماحول دوست اور منظم سیاحت کے فروغ کیلئے تین انٹگریٹیڈ ٹورازم زونز قائم کئے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں