6

زمین کے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بہت بڑی کامیابی

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انسانی کوششیں زیادہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہیں مگر اوزون کی تہہ کی بحالی کے حوالے سے اقوام متحدہ نے اچھی خبر سنائی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہمارے سیارے کو سورج کی خطرناک شعاعوں سے تحفظ فراہم کرنے والی اوزون کی تہہ 4 دہائیوں میں مکمل طور پر بحال ہوجائے گی۔
1987 میں ایک عالمی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایسے خطرناک کیمیکلز کے استعمال روکنے پر اتفاق کیا گیا جو اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے تھے۔

اب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطبین کو چھوڑ کر دنیا کے دیگر حصوں میں اوزون کی تہہ 2040 تک مکمل طور پر ٹھیک ہوجائے گی۔

قطب شمالی میں یہ عمل 2045 جبکہ انٹار کٹیکا میں 2066 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

عالمی معاہدے کے بعد سے اب تک اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والے 99 فیصد خطرناک کیمیکلز کا استعمال رک گیا جس سے اوزون کی تہہ میں بتدریج بہتری آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اوزون کی تہہ کی بحالی کا عمل سست رفتار ہے اور 2040 تک وہ 1980 کی دہائی کی سطح تک پہنچ جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ اب تک کی چند اہم ترین ماحولیاتی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اوزون کی تہہ میں شگاف سورج کی مضر شعاعوں کی وجہ سے خطرناک ہے مگر یہ موسمیاتی تبدیلیوں کا اہم سبب نہیں۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ اوزون کی تہہ کو بچانے سے عالمی درجہ حرارت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ جن خطرناک کیمیکلز کا استعمال ختم کیا جارہا ہے وہ گرین ہاؤس گیسز کی شکل میں عالمی درجہ حرارت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان کیمیکلز کا استعمال رکنے سے رواں صدی کے وسط تک درجہ حرارت میں ایک سینٹی گریڈ اضافے کو روکنا ممکن ہوجائے گا۔

اس رپورٹ کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے اور اس سے عندیہ ملتا ہے کہ عالمی اقدامات سے ماحولیاتی بحران کو ٹالنے میں مدد مل سکتی ہے مگر ماہرین نے انتباہ کیا کہ اوزون تہہ کے حوالے سے مثبت پیشرفت برقرار رہنے کی ضمانت نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں