6

44 ارب 93 کروڑ روپے کی مالی بےضابطگیاں

مانسہرہ ۔ خیبر پختونخوا کے 24 محکموں میں 44 ارب 93 کروڑ روپے کی مالی بےضابطگیاں سامنے آگئیں۔خیبرپختونخوا کے 24 محکموں میں مالی بے ضابطگیاں آڈٹ کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 24 سرکاری محکموں میں بےقاعدگیوں کے 289 کیس پر آڈٹ اعتراضات کیےگئے۔رپورٹ کے مطابق آلات کی خریداری کی مد میں 7 ارب 73 کروڑ 50 لاکھ روپےکی بےقاعدگیوں کاانکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق خلاف ضابطہ، غیر مجاز ادائیگیوں سے خزانے کو 12 ارب21 کروڑ 40 لاکھ روپےکا نقصان ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت میں آلات اور ادویات کی خریداری میں 2 ارب 97 کروڑ 66 لاکھ روپےکا نقصان ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق مولوی امیر شاہ اسپتال کے 2 کروڑ 95 لاکھ روپے کی سی ٹی اسکین مشین کی خریداری میں غیر ضروری اخراجات کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق خریدی گئی سی ٹی اسکین مشین چلانے کےلیے ٹیکنیشن نہیں جبکہ مشین کی حالت بھی خراب ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کولنگ ٹاور لگانے کے لیے7 کروڑ 38 لاکھ روپے کی مشکوک ادائیگیاں کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ کیو اسپتال باجوڑ، ڈی ایچ کیو اسپتال مہمند کے لیے آلات کی خریداری میں 8 کروڑ روپے کی بےضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ میں غیرضروری اخراجات میں1 ارب 94 کروڑ 32 لاکھ روپےکا نقصان ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ پولیس نے نئی گاڑیوں کی خریداری کےلیے1 ارب 35 کروڑ 68 لاکھ روپے وصول کیے، پولیس سے گاڑیوں کی خریداری کا ریکارڈ مانگا، لیکن فراہم نہیں کیا گیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ انرجی اینڈ پاور میں 23 ارب 96 کروڑ 74 لاکھ روپے کے آڈٹ اعتراضات اٹھائے گئےجبکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں ایک ارب 9 کروڑ 40 لاکھ روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں