15

ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ لیبر روم کی ذمہ دار لیڈی ڈاکٹر کیخلاف کارروائی کرے۔عوام

ایبٹ آباد۔ آج مورخہ اکیس جنوری صبح ساڑھے پانچ بجے میرپور کے رہائشی نوجوان نے میڈیا کی ٹیم کے نمبر پر کال کرکے بتایا کہ اس کی بہن کی حالت خراب ہے اور وہ اسے ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے گائنی یونٹ میں لیکر آیا ہے اور کوئی بھی لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں ہے۔

جس پر نوجوان کو بتایا کہ اپنی بہن کو لیبر روم لے جاؤ وہاں لیڈی ڈاکٹر لازمی ہونگی۔ تھوڑی دیر بعد نوجوان نے دوبارہ کال کرکے بتایا کہ لیبر روم میں بھی کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔ جس کے بعدمیڈیا ٹیم نے ڈی ایم ایس ڈاکٹرجنید سرور، ڈاکٹر منان کے علاوہ دیگرذمہ داروں کو کالیں کی لیکن کسی نے کال اٹنڈ نہیں کی۔

تھوڑی دیر بعد نوجوان نے دوبارہ کال کی اور اپنی مریضہ بہن سے بات کروائی۔ مریضہ نے بتایا کہ ایک لیڈی ڈاکٹر کو نیند سے جگایا گیا۔ جس پر وہ بہت برہم ہوئی اور انتہائی بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیک اپ کرنے کی بجائے لیبر روم سے دھکے دے کر نکال دیا۔

اس واقع کے بعد وسیم اپنی بہن کو لیکر وویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال چلا گیا۔ میڈیا کی ٹیم نے وویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹرمنہاج لودھی کو کال کی۔ جنہوں نے نیند میں ہونے کے باوجود کال اٹنڈ کی اور مریضہ کو ہسپتال میں داخل کر لیا۔

اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے اکثریتی ڈاکٹراپنے فرائض میں کوتاہی برت رہے ہیں۔لیبر روم جو کہ انتہائی ایمرجنسی کیلئے بنائے جاتے ہیں اس میں لیڈی ڈاکٹرز کی بادشاہی ہوتی ہے۔ اور ان کارویہ لمحہ فکریہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ اس واقع کی غیر جاندارانہ انکوائری کرکے لیبر روم کی ذمہ دار لیڈی ڈاکٹر کیخلاف کارروائی کرے۔لاکھوں کی تنخواہ وصول کرنے والے ہسپتال کے ذمہ داروں کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان کی طرح ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں