18

حقنواز خان کے ساتھ ایک نشست

حقنواز خان کے ساتھ ایک نشست۔کالم۔بزم قلم
سابق صوباٸی وزیر حقنواز خان درہ بھوگڑمنگ وادی سرن کے گاٶں سچہ میں پیدا ہوۓ۔ابتداٸی تعلیم گورنمنٹ پراٸمری سکول سچہ سے حاصل کی۔پانچویں,چھٹی جماعت کی تعلیم مانسہرہ,ساتویں جماعت گورنمنٹ مڈل سکول جبوڑی جبکہ آٹھویں جماعت کی تعلیم ایبٹ آباد سے حاصل کی۔میٹرک اور انٹر میڈیٹ کی تعلیم بھی ایبٹ آباد سے حاصل کی۔1964 میں گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد سے گریجویشن کی تعلیم مکمل کی اور 1966 میں خیبر لأ کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور اسکے بعد ڈسٹرکٹ کورٹس مانسہرہ میں باقاعدہ طور پر پریکٹس شروع کردی۔ڈھاٸی سالہ پریکٹس کے بعد آپ نے ضلع کی محرومیوں کو دیکھتے ہوۓ سیاست میں قسمت آزماٸی کا فیصلہ کیا۔عوام کی خدمت اور علاقہ کی تعمیر وترقی کا جذبہ لیکر 1970 کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ملک میں اُسوقت صدر یحیٰ کی حکومت تھی۔جولاٸی 1970 میں سچہ کے مقام پر ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جسمیں مولانا غلام غوث ہزاروی بھی شریک تھے۔اس موقع پر آپ نے باقاعدہ طور پر جمیعت علماۓ اسلام میں شمولیت کا اعلان کیا۔دوسرا جلسہ چھتر پلین کے مقام پر منعقد ہوا۔آپ کو PF.45 سے جمیعت کا ٹکٹ دیا گیا۔آپ کے حلقہ انتخاب میں بٹگرام کی چھ یونین کونسلیں بشمول الاٸی جبکہ مانسہرہ کی سات یونین کونسلیں شامل تھیں۔25 سال کی عمر میں آپ نے جمیعت کے ٹکٹ پر طاقتور سیاسی حریفوں کو شکست فاش سے دوچار کرکے تاریخ رقم کی۔اُسوقت مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہونیکی وجہ سے دوسال تک اسمبلی کا اجلاس منعقد نہ ہوسکا۔بعد ازاں مٸی 1972 میں JUI اور ANP کی مخلوط حکومت کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعلٰی مولانا مفتی محمود نے مختلف ممبران اسمبلی کو وزارت کے قلمدان سونپے۔آپ کو محکمہ صحت۔محکمہ سوشل ویلفٸیر اور جیل خانہ جات کا قلمدان سونپا گیا۔اس دوران بلوچستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوگٸے۔اُسوقت بلوچستان میں بھی NWFP کیطرح JUI اور ANP کی مخلوط حکومت قاٸم تھی۔ذوالفقار علی بھٹو نے دونوں صوباٸی حکومتوں کو چلتا کیا جس کے بعد سردار عناٸت اللہ گنڈاپور این ڈبلیو ایف پی اسمبلی کے وزیر اعلٰی بنے۔اسمبلی کو لأ گریجویٹ ممبر کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔گورنر اسلم خٹک نے پی ایم اے ایبٹ آباد کی پاسنگ آٶٹ پریڈ کے موقع پر چاۓ کے وقفے کے دوران ہندکو زبان میں آپکو وزارت قانون کی پیشکش کی۔آپ نے حلقہ کے عوام سے مشاورت کیلیے وقت مانگا اور بعد ازاں 1973 میں وزارت قانون اور صحت کا قلمدان سنبھالا۔صوبے کے حالات بدلے اور گورنر فضل حق کی سربراہی میں فوجی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔کابینہ کی تشکیل کیلیے آپ کا نام زیر غور آیا جس کے بعد آپکو محکمہ تعلیم۔محکمہ صحت۔ محکمہ قانون اور پارلیمانی امور کی وزارت سے نوازا گیا۔اسکے بعد پیر صابر شاہ وزیر اعلٰی بنے لیکن انکی حکومت صرف پانچ ماہ تک ہی چل پاٸی۔ممبران اسمبلی سے کیے گۓ وعدے پورے نہ ہونے پر انکے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گٸی جس کے نتیجے میں انہیں وزارت اعلٰی سے محروم ہونا پڑا جس کے بعد 1993 میں آفتاب خان شیرپاٶ نے وزارت اعلٰی کا منصب سنبھالا۔اس کابینہ میں آپکو وزارت خوراک کا قلمدان سونپا گیا۔آپ نے اپنے ادوار وزارت میں تعمیر وترقی کی نٸی مثالیں قاٸم کیں۔ بیروزگاروں کو روزگار کی فراہمی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔مختلف محکموں میں چار سو کے لگ بھگ نوجوانوں کو اپنے پاٶں پر کھڑا کرکے بہترین مثال قاٸم کی۔سرن ویلی اور کونش ویلی میں ترقیاتی سکیموں کے جال بچھانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا۔پوری سرن ویلی میں انگریز دور میں تعمیر کیے گۓ تین سکول تھے جن میں جبوڑی۔سچہ اور جبڑ کے سکول شامل تھے۔آپ نے پہاڑوں کی چوٹیوں تک سکول تعمیر کیے جن میں جالگلی کا مڈل سکول بھی شامل ہے۔صرف ایک سال کے عرصے میں 5 بی ایچ یوز کی منظوری کا اعزاز اپنے نام کیا۔کٹھاٸی۔ہربوڑہ۔کھبل۔بیلیاں اور اوگی کے بنیادی مراکز صحت آپکی کوششوں کا ثمر ہیں۔اسی طرح اوگی ہسپتال کو علاج کی بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی آپکے کارناموں میں شامل ہے۔وادی سرن میں سچہ اور نواز آباد بی ایچ یوز جبکہ وادی کونش میں بی ایچ یو چھتر اور BHU جالگلی کی تعمیر شامل ہے۔دریاۓ سرن پر پانچ رابطہ پلوں کی تعمیر بھی آپکے کارناموں میں شامل ہے۔ڈاڈر تا سچہ روڈ کی کشادگی اور بلیک ٹاپنگ جبکہ جالگلی روڈ کی تعمیر بھی آپ کی کوششوں سے عمل میں آٸی۔اسی طرح اپنے حلقہ انتخاب بالخصوص سرن ویلی میں واٹر سپلاٸی سکیموں کے جال بچھانے میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔وادی سرن کی واٹر سپلاٸی سکیموں میں جبوڑی۔سچہ۔نواز آباد۔منڈہ گھچہ اورتریڈہ کی سکیمیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپ نے حلقہ انتخاب میں متعدد دیگر ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل سے دوچار کیے اور تعمیر وترقی کی ایسی مثالیں قاٸم کیں جنہیں سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔بڑھتی ہوٸی عمر کے سبب آپ عملی طور پر سیاست سے کنارہ کش ہوچکے ہیں تاہم انکے فرزند عمرنواز خان اپنے والد کے مشن کا جذبہ لیکر حلقہ کے عوام کے درمیان موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں