22

اختر حیات خان نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا

مانسہرہ ۔ خیبرپختونخوا کے نئے تعینات ہونے والے انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ سنٹرل پولیس آفس پہنچنے پر تبدیل ہونے والے آئی جی پی معظم جاہ انصاری اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے انہیں خوش آمدید کہا اور پولیس کے ایک چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

انہوں نے سنٹرل پولیس آفس پشاور میں خیبرپختونخوا پولیس کے شہداءکی یادگار پر پھول چڑھائے اور شہداء کے بلند درجات کے لیے دعا مانگی۔ اختر حیات اس سے پہلے بحثیت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

آئی جی پی اختر حیات خان نے بی ایس سی الیکٹرانکس اور ایل ایل ایم میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ 6 نومبر 1994 کو بحیثیت پی ایس پی آفیسر پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی۔ اختر حیات ایک سنیئر تجربہ کار، پروفیشنل اور محنتی پولیس آفیسر ہیں اور آپ نے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک بہت سے تربیتی کورسز مکمل کئے ہیں۔آپ پولیس اور ایف آئی اے میں اہم عہدوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔

آپ کو 18ویں بیسک کورس کے بہترین گریجویٹ کے طور پر سورڈ آف انر سے بھی نوازا گیا اور 96-1995 تک کورس کے سینئر اے ایس پی رہے۔ ابتدائی تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد آپ لاہور، اسلام آباد اور اٹک میں بحیثیت اے ایس پی تعینات رہے۔ 1996 سے 2000 تک آپ قصور, لاہور، اٹک، حافظ آباد، ملتان اور پشاور میں بطور ایس ڈی پی او تعینات رہے۔2001 میں آپ ایس ایس پی پشاور تعینات کئے گئے۔

2002 سے2009 تک آپ ہری پور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، سوات اور مانسہرہ میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رہ چکے ہیں۔ آپ 2010 سے 2011 تک ڈی آئی جی انوسٹیگیشن پشاور اور ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن رہے ہیں۔2011 سے 2018 تک ریجنل پولیس آفیسر مالاکنڈ، ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ، کوہاٹ، مالاکنڈ اور مردان تعینات رہے۔ 2018 میں ڈی آئی جی ٹریفک خیبرپختونخوا، 2019 میں ڈی آئی جی کرائمز انوسٹیگیشن خیبرپختونخوا، 2020 میں ڈی آئی جی سپیشل برانچ خیبرپختونخوا اور 2021.22 میں ڈی آئی جی گوادر بلوچستان اور ایڈیشنل آئی جی پی سی ٹی ڈی بلوچستان بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

بعد ازاں سنٹرل پولیس آفس میں تعینات اعلیٰ پولیس حکام سے خطاب کرتے ہوئے پولیس سربراہ اختر حیات خان نے کہا کہ وہ ہمیشہ ٹیم ورک پر یقین کرتے چلے آئے ہیں اور ازمائش کی اس گھڑی میں بھی ہم سب کو ریاست کا وفا دار بننا ہوگا اس کے لیے ہمیں اپنی فرائض پر فوکس کرنا ہوگا اور ہر ایک کو عوام کی وابستہ توقعات پر پورا اُترنا ہوگا۔ پولیس فورس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے پولیس سربراہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال فورس ہے اور اسمیں ہر چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔

اور اس نے دہشت گردی کے خلاف جس دلیری اور شجاعت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اسکی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی اور خیبرپختونخوا پولیس کی بحیثیت سپہ سالار تعیناتی کو وہ اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے لازوال قربانیاں دے کر ایک سنہری تاریخ رقم کی ہے۔ ہم سب کو اُن کے مقدس خون کا لاج رکھنا ہوگا ۔

اس کے لیے ہمیں ہر محاذ پر اُنکے نقش قدم پر چل کر جرات و بہادری کا بے مثال عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ہمیں خلوص نیت اور سخت محنت کو اپنا شعار بنانا ہوگا اور پولیس قربانیوں سے حاصل کردہ فورس کی بہترین ساکھ کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فورس کی بہتری کے لیے ہر فرد کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں