ایبٹ آباد (مانسہرہ_ڈاٹ_کام) بدھ کی شام ہونے والی مختصر مگر تیز بارش نے شہر کا پورا نظام درہم برہم کر کے رکھ دیا۔ چند ہی منٹوں میں مختلف علاقوں کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ ٹریفک کا نظام مکمل طور پر جام ہو گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق پی ایم بائی پاس، کاکول روڈ، مین مانسہرہ روڈ، منڈیاں روڈ، سپلائی لنک روڈ سمیت شہر کی اہم شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں۔ نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہونے کے باعث بارش کا پانی سڑکوں پر کھڑا رہا، جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور کئی مقامات پر ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل رہی۔
ذرائع کے مطابق بعض نشیبی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا، جس سے شہریوں کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے کی کوششیں کیں، مگر مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہوتی گئی۔
ادھر ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں بھی بارش نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا، جہاں مختلف وارڈز میں چھتیں ٹپکنے لگیں۔ مریضوں اور تیمارداروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ عملے کو بھی ہنگامی بنیادوں پر صورتحال سنبھالنے میں مشکلات پیش آئیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا سٹی انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت اربوں روپے خرچ کیے گئے، مگر نکاسی آب کے نظام میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آتی۔ نالوں پر غیر قانونی تجاوزات، کچرے کے ڈھیر اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث ہر بارش کے بعد یہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
مقامی افراد نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال بارشوں کے بعد سیاسی قیادت اور متعلقہ ادارے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نکاسی آب کے نظام کو فعال بنایا جائے، نالوں کی صفائی یقینی بنائی جائے اور تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے بچا جا سکے۔
🟥 ایبٹ آباد: چند منٹ کی بارش نے شہر ڈبو دیا، نظامِ زندگی مفلوج، شہری شدید پریشان.
21