پشاور: سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا جنید خان کی زیرِ صدارت ایک اہم اور بامقصد کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں عوامی مسائل کے حل، جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ کھلی کچہری عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور اعتماد کے فروغ کا باعث بنی۔
اجلاس میں احمد زیب (مینیجنگ ڈائریکٹر فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن)، اصغر خان (چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ٹو و تھری)، اراکینِ صوبائی اسمبلی، سابق معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان، اور ملاکنڈ و ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جنگلاتی کاروبار سے وابستہ افراد، معززینِ علاقہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت نے اجلاس کو ایک جامع مشاورتی فورم بنا دیا۔
کھلی کچہری کے دوران جنگلات کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی کی روک تھام، شجرکاری مہمات کے فروغ، اور ماحولیاتی آگاہی جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ شرکاء نے اپنے مسائل، تجاویز اور تحفظات کھل کر پیش کیے، جنہیں متعلقہ حکام نے غور سے سنا اور کئی امور پر فوری رہنمائی بھی فراہم کی۔
اس موقع پر سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا گیا تاکہ جنگلات کے پائیدار تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی تعاون کے بغیر ماحولیاتی اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔
اپنے خطاب میں جنید خان نے کہا کہ جنگلات صوبے کا قیمتی سرمایہ اور آنے والی نسلوں کی امانت ہیں، جن کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ جنگلات کو درپیش مسائل کے حل اور فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت، احتساب اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی شمولیت، باہمی اعتماد اور مسلسل رابطہ ہی ایک سرسبز اور ماحولیاتی طور پر متوازن خیبرپختونخوا کی بنیاد ہے، اور اسی مقصد کے لیے آئندہ بھی کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
🟥 خیبرپختونخوا: سیکرٹری ماحولیات جنید خان کی زیرِ صدارت کھلی کچہری، عوامی مسائل کے حل پر زور.
16