بارش کے بعد جب سیالکوٹ کے افق پر برف سے ڈھکے پہاڑ نمایاں ہوتے ہیں، تو بے شمار دل خاموشی سے اپنے آبائی جموں و کشمیر کو یاد کرنے لگتے ہیں۔
ہجرت نے سرحدیں ضرور کھینچ دیں، مگر یادوں، محبتوں اور اپنے وطن کی خوشبو کو کبھی جدا نہ کر سکی۔ ان برفیلے پہاڑوں کو دیکھتے ہی بزرگوں کی سنائی ہوئی بستیاں، گلیاں، کھیت، چشمے اور بچپن کی وہ داستانیں پھر سے ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں، جو نسل در نسل سینوں میں محفوظ ہیں۔
یہ صرف قدرت کا حسین نظارہ نہیں، بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کے جذبات، تاریخ اور شناخت کی ایک خاموش جھلک بھی ہے، جن کی جڑیں جموں و کشمیر سے وابستہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے مرحوم بزرگوں پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، اور ہمیں اپنی جڑوں، اپنے ماضی اور اپنی نسلوں کو ان یادوں سے جوڑے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲
“بارش کے بعد جب یہ برفیلے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں،
تو نہ جانے کتنے دل خاموشی سے اپنے آبائی جموں و کشمیر کو یاد کرنے لگتے ہیں۔”





❤️ اگر آپ کے خاندان کا تعلق بھی جموں و کشمیر سے رہا ہے تو اپنے بزرگوں کی ہجرت، اپنے گاؤں، قصبے یا شہر کی یادیں اور کہانیاں کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔ شاید آپ کی ایک یاد کسی اور کے دل کو بھی چھو جائے۔
🏔️ بارش کے بعد نظر آنے والے یہ برف پوش پہاڑ، صرف ایک منظر نہیں… ہزاروں بچھڑے دلوں کی یاد ہیں.
22