✈️ بلاجواز آف لوڈنگ اور مسافروں سے ناروا سلوک؟ شفاف تحقیقات ناگزیر.

28

ایئرپورٹس پر بعض مسافروں کو بغیر واضح وجہ آف لوڈ کیے جانے اور ان کے ساتھ نامناسب رویے سے متعلق شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ اگر کسی شہری کو بلاجواز سفر سے روکا جائے یا اس کے ساتھ غیر مناسب سلوک کیا جائے، تو یہ نہ صرف اس کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے بلکہ اسے بھاری مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔


بیرونِ ملک روزگار یا بہتر مستقبل کی امید میں سفر کرنے والے بہت سے افراد اپنی برسوں کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، بعض اوقات گھر کا سامان یا جائیداد تک فروخت کر دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی کو بلاجواز سفر سے روک دیا جائے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک ویڈیو میں بھی ایک نوجوان کے ساتھ مبینہ تشدد کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات ہونی چاہئیں، اور اگر کسی اہلکار کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اسی طرح کچھ عرصہ قبل خان پور کے ایک نوجوان کے بارے میں بھی یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ اسے بغیر کسی واضح وجہ کے آف لوڈ کیا گیا، جس کے باعث اسے تقریباً دو لاکھ روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) پاکستان کا ایک اہم قومی ادارہ ہے، اور اس کے بے شمار افسران و اہلکار دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اگر کہیں چند افراد اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی نہ صرف متاثرہ شہریوں کو انصاف فراہم کرتی ہے بلکہ ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کے ساتھ یکساں، باوقار اور منصفانہ سلوک کیا جائے، جبکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت، احتساب اور انصاف کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔
آپ کی رائے میں اگر کسی مسافر کو بلاجواز آف لوڈ کیا جائے یا اس کے ساتھ غیر مناسب سلوک ہو، تو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہییں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں