پاکستان میں انتظامی بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے 32 نئے صوبے بنانے کا ایک تفصیلی خاکہ اور پریزنٹیشن تیار کر لی گئی ہے۔ اس تجویز کے تحت ملک کو مجموعی طور پر 33 انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں اسلام آباد بطور وفاقی دارالحکومت برقرار رہے گا جبکہ چاروں صوبوں کی ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دیا جائے گا۔
مجوزہ صوبوں کی تعداد
مجوزہ منصوبے کے تحت موجودہ چاروں صوبوں کو درج ذیل نئے صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا:
موجودہ صوبہ نئے صوبوں کی تعداد
پنجاب 10
سندھ 7
خیبر پختونخوا 7
بلوچستان 8
اس نئی تقسیم کے بعد ملک میں 33 ہائی کورٹس قائم ہوں گی جن میں مجموعی طور پر 137 ججز فرائض انجام دیں گے۔
مالی تخمینہ اور بچت
دستاویزات کے مطابق اس اہم انتظامی تبدیلی سے قومی خزانے کو سالانہ 318 ارب روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے:
· 40 ہزار سے زائد غیر ضروری انتظامی آسامیوں کا خاتمہ
· عدلیہ کا موجودہ 56 ارب روپے کا بجٹ کم ہو کر 24 ارب روپے رہ جائے گا
· تعلیم، صحت اور فنانس سمیت 40 سے زائد محکمے مکمل طور پر صوبوں کو منتقل ہو جائیں گے
سیاسی اور آئینی پہلو
سیاسی اثرات
· 33 نئے وزرائے اعلیٰ بننے سے چند مخصوص سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری ختم ہوگی
· مقامی سطح پر نئی سیاسی قیادت ابھر کر سامنے آئے گی
· قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد وہی رہے گی، تاہم وہ آبادی کے تناسب سے چھوٹی صوبائی اسمبلیوں میں تقسیم ہو جائیں گے
آئینی تقاضے
آئین کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے:
1. متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت
2. قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت
3. سینیٹ میں دو تہائی اکثریت
پاکستان بار کونسل (PBC) نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل آئینی طریقہ کار اور قومی اتفاق رائے کے تحت ہونی چاہیے۔
موجودہ صورتحال اور چیلنجز
معاشی اور سماجی مسائل
پریزنٹیشن میں یہ دلائل دیے گئے ہیں کہ موجودہ چاروں صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کئی ممالک سے بھی بڑے ہیں:
· 2.5 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں
· 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں
· پاکستان انسانی ترقی کے انڈیکس میں 193 میں سے 168ویں نمبر پر ہے
سیاسی مخالفت
سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “سندھ کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے”۔
پیپلز پارٹی نے معاملے کو اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔
قانونی برادری کا موقف
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (SCBA)
حمایت: SCBA نے اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہتر گورننس، منتقلی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ہوگا۔
پاکستان بار کونسل (PBC)
آئینی طریقہ کار پر زور: PBC نے کہا کہ نئے صوبے صرف آئین کے مطابق، پارلیمانی عمل اور قومی اتفاق رائے سے بنائے جائیں۔
اہم سوالات اور تحفظات
ماہرین نے درج ذیل اہم سوالات اٹھائے ہیں:
1. کیا یہ تجویز وقت کی مناسبت سے ہے جبکہ ملک دہشت گردی اور معاشی بحران سے دوچار ہے؟
2. کیا یہ لاگت مؤثر ہے یا اس سے نئے انتظامی اخراجات پیدا ہوں گے؟
3. کیا آئینی طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا یا ریفرنڈم جیسے متبادل راستے اختیار کیے جائیں گے؟
4. کیا اس سے مقامی حکومت کا نظام کمزور نہیں ہوگا؟
نتیجہ
یہ تجویز پاکستان کی انتظامی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار سیاسی اتفاق رائے، آئینی طریقہ کار اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے پر ہے۔ موجودہ سیاسی اور قانونی رکاوٹیں اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے میں اہم چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں 32 نئے صوبوں اور 33 ہائی کورٹس کی مجوزہ تجویز.
23