مکہ معاہدہ صرف دفاع پر نہیں، معیشت پر بھی ہونا چاہیے: حافظ نعیم الرحمٰن

18

امیرِ جماعتِ اسلامی کا اہم بیان
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ صرف دفاع پر نہیں بلکہ معیشت پر بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اگلے مرحلے میں ایران، قطر اور بنگلادیش کو شامل کرنا چاہیے۔—
الیکشن اور نظامِ حکمرانی پر تنقید
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ موجودہ الیکشن میں لوگوں کی رائے پر حکومتیں نہیں بنیں، جس کی وجہ سے اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا:
“پی ڈی ایم کی جانب سے یہ بات آئی ہے کہ یہ نظام نہیں چل رہا، یہ سسٹم نااہلی کا نمونہ ہے، صرف اعتراف سے کچھ نہیں ہو گا، یہ دیکھنا ہو گا کہ کیسے لوگوں کو الیکشن میں لایا جاتا ہے۔”—
نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ اس نظام میں عام لوگوں کا کوئی حصہ نہیں اور صرف پتے جھاڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا:
· نظام کو تبدیل کرنا ہو گا
· حل صرف یہ ہے کہ آئین کو مقدم رکھا جائے
· عام لوگوں کو نظام میں شامل کیا جائے
مکہ معاہدہ اور دفاعی پہلو
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد اسرائیل کو کھل کر آنکھیں دکھائے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں مسلسل لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور امریکا اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔
اہم نکات
موضوع موقف
مکہ معاہدہ دفاع + معیشت پر مشتمل ہونا چاہیے
اگلے مرحلے میں شمولیت ایران، قطر، بنگلادیش
الیکشن کا نظام لوگوں کی رائے پر حکومتیں نہیں بنیں
نظامِ حکمرانی آئین کو مقدم رکھا جائے
غزہ فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے
امریکا اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال
حافظ نعیم الرحمٰن کا مکہ معاہدے کو معیشت تک وسعت دینے کا مطالبہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے نظامِ حکمرانی میں اصلاحات، آئینی بالادستی اور فلسطین کی حمایت پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں