کسٹمز کی کارروائی نے ایک محنت کش کو لوٹ لیا.

24


واقعہ کی تفصیلات
پاکستان کسٹمز نے وطن واپس آنے والے ایک اوورسیز محنت کش سے 5 کیمرے اور ایک پلے سٹیشن ضبط کر لیا۔ یہ محنت کش کئی سالوں سے بیرون ملک مشقت کر رہا تھا اور قیمتی زر مبادلہ ملک بھیجتا رہا۔
محنت کش کی مجبوری اور کسٹمز کا ظلم
یہ سوال اٹھتا ہے کہ:
“ایک محنت کش جو سالہا سال سے باہر ملک محنت کرتا ہے اور قیمتی زر مبادلہ بھیجتا ہے، کیا اسے یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے شوق اور مرضی کے مطابق اعلیٰ کوالٹی کی کوئی چیز خرید کر گھر لے آئے؟”
کسٹمز کا یہ اقدام نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ اس محنت کش کی محنت اور جذبات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، ایک سوچ ہے
یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ پاکستان میں عوام کے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں کی ایک کڑی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات دینے کے بجائے انہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آواز اٹھانے کی ضرورت
ہم سب کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
“خاموش رہو گے تو بیوی بچوں پر بھی ٹیکس لگا دیں گے۔”
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر ہم ان ناانصافیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تو یہ سلسلہ مزید بڑھے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات
اوورسیز پاکستانی ملک کی سب سے بڑی زرمبادلہ کی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی خدمات کو نظر انداز کرنا اور ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا شرمناک ہے۔
مطالبہ
· تمام اوورسیز پاکستانیوں کو ان کی مرضی کی اشیاء لانے کی اجازت دی جائے
· کسٹمز کے غیر ضروری اور ظالمانہ قوانین میں ترمیم کی جائے
· اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں
نتیجہ
یہ وقت ہے کہ ہم سب اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اگر ہم خاموش رہے تو یہ ناانصافیاں بڑھتی رہیں گی اور پھر باری ہم سب کی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں