اسلام آباد: وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں وہ خود مقرر نہیں کرتے بلکہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہیں۔
پاکستان انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ مجھ پر تنقید کی جاتی ہے کہ میں روزانہ پیٹرول کی قیمتیں تبدیل کرتا ہوں، حالانکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین مختلف عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ لوگ انہیں محبت دیتے ہیں یا تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ آج کیے جانے والے فیصلوں کے مستقبل میں کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔
وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ خود کفالت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملک کی طویل مدتی توانائی سیکیورٹی یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جبکہ گردشی قرضے میں بھی نمایاں کمی لائی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے کے مختلف حصوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد طویل اور درمیانی مدت کی توانائی پالیسی پر کام کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے توانائی کی صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی روشنی میں اقدامات کر رہی ہے، جبکہ گزشتہ روز ڈیزل کی قیمتوں میں ریلیف بھی دیا گیا۔ آئل سیکٹر کے مڈ اسٹریم شعبے میں اصلاحات کا مقصد مستقبل میں پیدا ہونے والے مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل پر وزیرِ پیٹرولیم کی وضاحت.
25