ڈاکٹر غریب لوگوں کو سزا مت دیں: عوامی مطالبہ

54

ایبٹ آباد: ڈاکٹر غریب لوگوں کو سزا مت دیں: عوامی مطالبہ۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال ایبٹ آباد کی لیڈی ڈاکٹر وردہ کے اغواء اور سفاکانہ قتل نے پورے صوبے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹر وردہ کو ان کی سہیلی نے امانت کے طور پر رکھے گئے 67 تولے سونا ہتھیانے کے لیے قتل کروایا۔

اس دلخراش واقعے کے بعد ڈاکٹرز کمیونٹی سراپا احتجاج ہے اور ایبٹ آباد کے شہری بھی بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ ہر طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملزمان کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے اور متعلقہ اداروں کی غفلت پر بھی کارروائی ہو۔

تاریخ میں پہلی بار دو روز تک ڈی ایچ کیو ایمرجنسی مکمل بند رہی۔ تمام مطالبات مان لیے گئے، مگر احتجاج پانچویں روز بھی جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی بند کر کے غریب مریضوں کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے؟ سرکاری ہڑتال تو جاری ہے مگر کیا ڈاکٹرز نے ایک دن کے لیے اپنے پرائیویٹ کلینک یا ہسپتال بند کیے؟ ہرگز نہیں۔ پرائیویٹ مراکز بدستور کھلے ہیں جہاں امیر علاج کرا رہے جبکہ غریب دربدر پھر رہے ہیں۔

ڈاکٹرز کو اپنے اس طرز عمل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ احتجاج ضرور کریں، انصاف کیلئے آواز ضرور بلند کریں، عوام آپ کے ساتھ ہے۔ لیکن انسانیت کے ناتے غریب مریضوں پر رحم کریں، ہڑتال ختم کریں اور ان کی دادرسی کریں، کیونکہ اس رویے نے عوام کو آپ سے بدظن کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں