مانسہرہ تجزیہ : حتمی طور پے فلحال کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن غالب گمان یہ کیا جارہا ہے کہ قرضے کیوجہ سے “شدید ڈپریشن” میں آ کر کاشف جدون نے اپنے تینوں بچوں کو مار ڈالا اور پھر اپنی اور بیوی کی بھی جان لینے کی کوشش کی!
ڈپریشن کیوجہ بیوی بچوں کو مارنا اور جان سے ہی مار ڈالنا ایک کمزور اور ڈرپوک انسان کی نشانی ہے ! آپ ڈپریشن کو جواز بنا کر غلط اقدام کو justify نہیں کرسکتے –
قرض دینا والا قرض واپسی کا مطالبہ نہ کرے تو اور کیا کرے ؟ ہاں نرمی سے کام لیا جاسکتا ہے مہلت دی جاسکتی ہے لیکن اس سب کو جواز بنا کر اپنے ہی بچوں کو قتل کر دنیا ظلم کی انتہا ہے!
ہمارے معاشرے میں ڈپریشن آج کی نہیں کب سے عام ہے مگر کوئ بات نہیں کرتا تھا اس موضوع پے – ہاں شاید اب ڈپریشن ذیادہ عام ہو گئی ہے لیکن اس میں موجودہ حالات کیساتھ ساتھ ہمارا دین اور اللہ سے دوری، ایمان کی کمزوری اور اس دنیا کیساتھ لگاؤ کا ذیادہ ہونا بھی شامل ہے ۔
میرے پاس الفاظ نہیں کے اس ظالم شخص نے معصوم کلیوں کی جان لی- اپنی دنیا کیساتھ آخرت بھی تباہ و برباد کر دی ! انکا کیا قصور تھا ؟