کاغان کالونی قتل کیس: ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق نیکی قاری صاحب کے گلے پڑ گئی

125

ایبٹ آباد : کاغان کالونی قتل کیس: ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق نیکی قاری صاحب کے گلے پڑ گئی۔ قاری صاحب واقع کے بعد روپوش ہو گئے ہیں۔

مبینہ ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق کاغان کالونی میں تین معصوم بچوں کے قتل اور خاتون خانہ کو شدید زخمی کرنیوالے کاشف خان اپنے جرم کی اعترافی ویڈیو میں قاری کو پیغام دے رہا ہے کہ ان سب کے مرنے کے بعد ان کا مکان بیچ کر ایک کروڑ روپے لے لے اور دس لاکھ اس کی بہن کو دے دے۔

اس حوالے سے قاری صاحب کے بارے میں چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ کاشف خان نے تین چار ماہ قبل ایک شو روم سے جی ایل آئی کار خریدی تھی۔ جس کے پیسے بقایا تھے۔ ان پیسوں کی واپسی کیلئے کئی جرگے بھی ہوئے۔ قاری صاحب کاشف خان کا قریبی دوست تھا۔ کاشف خان کے کہنے پر قاری صاحب نے تقریباً 60 لاکھ روپے کی رقم جرگے میں ادا کی۔

قاری صاحب کاشف خان سے جب بھی اپنے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا تو کاشف خان کہتا کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو مار دے گا۔ ڈر کے مارے قاری صاحب کاشف خان کو پیسوں کی واپسی کیلئے مزید مہلت دے دیتے اور یوں چار مہینوں کا وقت گزر گیا۔

اس دوران کاشف خان جو کہ ٹریڈنگ کی لت میں بھی مبتلاء تھا اور بہت سا پیسہ اس کام میں برباد کر چکا تھا۔ کاشف خان کی اہلیہ کے پاس زیورات تھے اور ایک پلاٹ بھی اس کے نام پر تھا۔ کاشف خان اپنی اہلیہ سے زیورات اور پلاٹ بیچنے کا کہہ رہا تھا۔ لیکن اس کی اہلیہ اپنے زیورات اور پلاٹ بیچنے پر تیار نہیں تھی اور اس نے اپنے زیورات اپنی والدہ کے پاس امانتاً رکھوا دیئے تھے۔

کاشف خان کو اس بات کا بھی غصہ تھا کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔ پھر آخر کار اس نے اپنا یہ غصہ بچوں اور بیوی کو مار کر پورا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں