سیاسی اثر و رسوخ یا نوٹوں کی چمک. پولیس کی یک طرفہ کاروائی پر سوالیہ نشان

92

مانسہرہ : سیاسی اثر و رسوخ یا نوٹوں کی چمک. پولیس کی یک طرفہ کاروائی پر سوالیہ نشان. ایک ماہ قبل دی گئی درخواست پر تاحال تادیبی قانونی کارروائی نہ ہو سکی. جبکہ مخالفین کی جانب سے دی گئی خودساختہ درخواست پر الٹا مظلومین پر پرچہ درج ہو گیا. بوگس مقدمے میں چئیرمین غازی کوٹ کو ملوث کرنا سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے.

مخالفین کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات اور شر و فساد کا سلسلہ دھڑلے سے جاری. کسی بھی وقت بڑے فساد کا خطرہ. تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر میں 25_11_20 کو ،34/۔506 کا مقدمہ ملک آزاد کی جانب سے درج کروایا گیا. جس میں ملک سعد سہراب ملک خضر ملک جنید اور ملک عبید کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ پورا مقدمہ ہی بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے. نامزد ملزم ملک جنید وقوعہ کے وقت کراچی میں موجود تھا جبکہ ملک خضر بھی موقع پر موجود نہ تھا.

ملک جنید نے اپنے کراچی میں موجودگی کے تمام ثبوت پولیس اور کورٹ میں پیش کر دئے ہیں. اور ملک خضر نے بھی اپنی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے. جبکہ عبید ملک آزاد کے گھر کے سامنے زیر تعمیر شوروم پر الیکٹریشن اور پلمبرنگ کا کام کرتا ہے. جسے پولیس نے کام کے دوران گرفتار کیا جو ناحق سات دن جیل کاٹ کر ضمانت پر رہا ہوا ہے. جس سے صاف ظاہر ہے ایک مافیا کی جانب سے چئیرمین ملک سعد سہراب کو خاندانی و سیاسی دشمنی میں پھنسانے کی مذموم سازش رچائی گئـی ہے. ملک سعد سہراب وی سی چئیرمین غازی کوٹ ہے.

اور سیاسی حریف رکھتا ہے. یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک سعد سہراب کے سیاسی حریف خاندانی حریف اور ملک آزاد کی ذاتی رنجش کا گٹھ جوڑ ہے. جو ملک سعد سہراب کو پھنسانے کی سازش کا شاخسانہ ہے. جس میں مبینہ ذرائع کے مطابق تھانہ صدر پولیس کی ناقص تفتیش یا مخالف ملک آزاد کے ساتھ مبینہ ملی بگھت کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے.

جب ملک سعد سہراب پر ملک آزاد کی جانب سے تین بندوں نے اس پر فائر داغے. جبکہ ملک سعد سہراب نے اپنی حفاظت کے لئے سول ڈیفنس میں کی گئی جوابی ہوائی فائرنگ کو کورٹ میں وہ سی سی ٹی وی فورٹیج پیش کی جس میں ملک سعد سہراب کو فائر کرتا دکھایا گیا ہے اور جو تین بندے ملک سعد پر فائر کر رہے ہیں وہ فورٹیج عدالت میں نہیں پیش کی گئ. جبکہ ملک جنید اور ملک خضر کی بے گناہی کے ثبوت پیش کرنے کے باوجود انکوائری رپورٹ عدالت میں پولیس کی جانب سے نہ کرانا واقعہ و تفتیش کو مبینہ طور پر مشکوک گردانا جا رہا ہے.

پولیس پر مبینہ طور پر کوئی سیاسی دباؤ ہے یا نوٹوں کی چمک ہے کہ سب بے بس نظر آ رہے ہیں. اور چئیرمین ملک سعد سہراب سمیت بے گناہ افراد آنکھوں کے سامنے ناکردہ گناہ کے کیس میں گسیٹے جا رہے ہیں جو کہ ظلم عظیم ہے.

دوسری جانب ذوالفقار علی جو ملک عبید کا چچا ہے جب ملک عبید کو پولیس نے کام کے دوران گرفتار کیا تو ذوالفقار علی تھانہ صدر پولیس سے یہ پوچھنے گیا بچے کو کس جرم میں گرفتار کیا ہے تو موقع پر موجود ملک شہزاد نے ذولفقار علی پر حملہ کر دیا اور ملک آذاد شہر یار اور اسفند یار نے بھی ساتھ دیتے ہوئے ذوالفقار علی پر لاتوں مکوں کی بارش کر دی. یہ تمام کاروائی تھانہ صدر پولیس کی موجودگی میں ہوئی. کچھ دیر بعد ملک شہذاد، ملک آذاد، شہر یار اور اسفندیار وغیرہ ذوالفقار علی کے گھر آ کر قاتلانہ حملہ کیا.

جس کی اطلاع ذوالفقار علی نے تھانہ صدر پہنچ کر دی. جس کی روزنامچہ پر انٹری ہے. جو 25_11_20 ۔ کو بوقت 3 بجے دی گئی. 28 دن گزرنے کے باوجود بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی. جبکہ ڈی پی او مانسہرہ ڈی آئی جی ہزارہ آئی جی کے پی کے کو بھی درخواست دی گئی. لیکن مقامی پولیس کا ایک ہی جواب ہے انکوائری ہو رہی.

جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالفین ملک شہذاد وغیرہ اکثر ڈرانے کے لئے ہوائی فائرنگ کرتے ہیں. جس کی اطلاع تھانہ صدر کو کئی بار دی جا چکی ہے لیکن تھانہ صدر پولیس تو جیسے مبینہ طور پر قسم کھائی ہے کہ ملک شہزاد وغیرہ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرے گی. خدارا مقامی تھانہ صدر پولیس ہوش کے ناخن لے اور میرٹ پر کام کرے.

اور یک طرفہ کاروائی بند کرے وگرنہ موجودہ کشیدگی کی صورتحال میں کوئی بھی ناخواشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے. جس کی تمام تر ذمہ داری تھانہ صدر پولیس پر عائد ہونا قرین از قیاس نظر آتا ہے. ملک شہزاد و دیگر پس پشت مافیا و سیاسی مخالفین کے جلد بے نقاب ہونے سمیت اس کیس کے حوالے مزید سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں