تورغر : عالیہ بی بی زوجہ ناز خان کے ق تل کے واقعے پر مقت ولہ کے چچازاد بھائی کلیم اللہ ولد خانزادہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیش رفت اور مطالبات سے میڈیا کو آگاہ کیا۔
پریس کانفرنس میں کلیم اللہ نے بتایا کہ عالیہ بی بی کی شادی 24 نومبر 2024 کو ناز خان کے ساتھ ہوئی۔ ان کے مطابق شادی کے بعد صرف بیس (20) دن کے قلیل عرصے میں عالیہ بی بی کو مبینہ طور پر گھریلو مسائل اور تشدد کا سامنا رہا
کلیم اللہ کے مطابق درخواست میں درج مؤقف کے تحت 19 دسمبر بروز جمعہ کو عالیہ بی بی کو مبینہ طور پر پوری رات تشدد کا نشانہ بنایا گیا درخواست کے مطابق صبح کے وقت عالیہ بی بی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئی۔ واقعے کے بعد گھر والوں کو اطلاع دی گئی۔ اہلِ خانہ کے پہنچنے پر زخمی عالیہ بی بی سے بات چیت کے بعد اسے ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم وہ ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پولیس کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے ناز خان کی والدہ کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے، جس پر اہلِ خانہ نے جزوی اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم کلیم اللہ کا کہنا تھا کہ اہلِ خانہ کا مطالبہ ہے کہ درخواست میں نامزد مرکزی ملزم، یعنی عالیہ بی بی کے شوہر ناز خان، کو بھی فوری طور پر گرفتار کیا جائے
انہوں نے مزید کہا کہ اہلِ خانہ کا یہ بھی مؤقف ہے کہ گرفتار شدہ خاتون ساس سے ق تل کے محرکات اور پسِ پردہ وجوہات کے حوالے سے مکمل اور مؤثر تفتیش کی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا
کلیم اللہ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی پر الزام تراشی نہیں بلکہ شفاف، غیر جانبدار اور قانونی تحقیقات کا مطالبہ ہے، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ انہوں نے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ درخواست اور شواہد کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر اہلِ خانہ نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ اس افسوسناک واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور مقتولہ کو انصاف فراہم کیا جائے