مانسہرہ: یہ داستان ہے قربانی، وفا اور عشقِ وطن کی
آج سے تقریباً ڈھائی سال قبل، 5 جون کی تاریخ کی اُس خاموش شب، کی کے گاؤں تنوا ہ کا ایک جوان، شہید صابرتنولی، اپنی جان نچھاور کر کے وطنِ عزیز پاکستان پر قربان ہو گیا۔ یہ خبر جہاں ایک طرف دلوں کو غم سے بوجھل کر گئی، وہیں دوسری طرف غیرت، فخر اور سربلندی کا ایک ایسا جذبہ لے کر آئی جس نے پورے گاؤں کو جوش و خروش سے بھر دیا۔
ایک ماں کا لعل بچھڑ گیا، ایک باپ کی آنکھیں نم ہوئیں، ایک گھر اجڑ گیا—یہ سچ ہے۔ مگر اس سچ کے ساتھ ایک اور سچ بھی ہے کہ پاکستان کی مٹی نے ایک اور سچے سپاہی کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں دکھ، فخر میں بدل گیا اور آنسوؤں میں مسکراہٹ کی چمک نظر آئی۔
اس ویڈیو میں وہ لمحہ تاریخ بن گیا جب سب سے پہلے شہید صابر تنولی کے والدِ محترم کو قومی پرچم پیش کیا گیا—یہ محض ایک پرچم نہیں تھا، یہ ایک باپ کے صبر، ایک بیٹے کی قربانی اور ایک قوم کے وقار کی علامت تھا۔ ویڈیو کے دوسرے حصے میں شہید کی پروفائل تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ کوئی عام نوجوان نہیں تھا، بلکہ وہ سپوت تھا جس نے اپنی زندگی سے بڑھ کر وطن کو چنا۔
تیسرے، چوتھے اور پانچویں مناظر میں دی جانے والی سلامی اس بات کی گواہ ہے کہ شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا—وہ رخصت جو ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتی ہے۔
تناول کے گاوں تنوه ا ٹھکرال کے لیے یہ لمحہ یقیناً ایک بہت بڑی بات ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس نے الحمدللہ اس سے پہلے بھی کئی جوان اس مادرِ وطن پر قربان کیے ہیں۔ تنواہ ٹھکرال کی گلیاں گواہ ہیں، اس کی فضا شاہد ہے، اور اس کی مٹی فخر سے کہتی ہے کہ یہاں کے بیٹے صرف جینے کا ہنر نہیں جانتے، بلکہ مر کر زندہ رہنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔
شہید صابر تنولی جیسے سپوت قوموں کو زندہ رکھتے ہیں۔
ایسے ہی لہو سے پرچم سرخرو رہتا ہے،
ایسی ہی قربانیوں سے پاکستان سلامت رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے، اور ہمیں اس وطن کی قدر کرنے والا بنائے جس پر جان نچھاور کرنے والے آج بھی موجود ہیں شہید زندہ ہوتے ہیں، اور تنواہ ٹھکرال کا یہ بیٹا زندہ رہے گا گے۔
بقلم: محمد نواز حبیب تنولی