مانسہرہ : ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ڈیپارٹمنٹ آف باٹنی کے زیرِ اہتمام “Consultative Workshop on Restoring Endangered Himalayan Yew for the Future under Climate Change Scenarios” کے عنوان سے ایک روزہ کنسلٹیٹو ورکشاپ منعقد کی گئی۔
ورکشاپ کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں معدومی کے خطرے سے دوچار پہاڑی درخت Himalayan Yew کے تحفظ، بحالی اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کرنا تھا۔ ورکشاپ کےچیف گیسٹ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر محمد اکمل نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے دو اہم سیناریوز ہیں، ایک درجہ حرارت اور دوسرا پانی۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے بڑا فیکٹر پانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بارشوں کا پیٹرن تیزی سے بدل رہا ہے جو تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے جس کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اوران تبدیلیوں کے نتیجے میں گندم سمیت دیگر اہم فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ فصلوں کے ری پروڈکٹیو فیز میں بھی واضح تبدیلیاں نوٹ کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شہروں میں زیر زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے جو مستقبل میں سنگین مسائل کو جنم دے گا ۔
ڈاکٹر اکمل نے کہا کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات میں سہرفہرست ہے جس سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے مربوط اقدامات اٹھائے جائیں۔ ڈاکٹر اکمل نے مزید کہا کہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن بین الادارہ جاتی تعاون کے ذریعے بائیو ڈائیورسٹی کے تحفظ کے منصوبوں کی حمایت جاری رکھے گی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیائی یو ایک قیمتی نباتاتی ورثہ ہے تاہم موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کے کٹاؤ کے باعث یہ درخت شدید خطرات سے دوچار ہے ۔انہوں نے باٹنی ڈیپارٹمنٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج ہونے والی ورکشاپ ہمالیائی یو کی بحالی، جینیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے والی حکمتِ عملیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر سفارشات مرتب کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں مزید تیزی لائے گی۔
بائیو ڈائیورسٹی اینڈ کنزرویشن ایکسپرٹ عاشق احمد خان نے کہا کہ ہمالیائی یو کے ختم ہونے سے پاکستان کو چیلنجز درپیش ہیں جن کا عام لوگوں کے معاشی حالات پر اثر پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی حوالوں سے غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے جس سے مقابلے کے لئے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ، ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹیوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا تاکہ ان مسائل پر مشترکہ ریسرچ کے ذریعے قابل عمل اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔
ڈاکٹر عاشق احمد نے باٹنی ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر اور ورکشاپ کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر رابعہ افزا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ورکشاپ کے لئے وقت کی ضرورت کے مطابق نہایت اہم موضوع کا انتخاب کیا ہے اور اس حوالے سے ان کی ریسرچ فائنڈنگ کی روشنی میں قیمتی نباتات کی حفاظت کے لئے کام کیا جا سکتا ہے۔
ورکشاپ میں یونیورسٹی کے ڈینز ،تعلیمی و انتظامی شعبوں کے سربراہان،فیکلٹی ممبران، طلباء و طالبات اور سکالرز نے شرکت کی۔اس سے قبل ورکشاپ کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر رابعہ افزا نے ملٹی میڈیا پریزنٹیشن کے ذریعے پاکستان کے مختلف اضلاع میں جنگلات کے کٹاؤ ، نایاب درختوں اور پودوں کی حالیہ صورتحال اورریسرچ ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل کے خدشات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ڈاکٹر رابعہ افزا نے کہا کہ ہمالائی یو کو معدومیت سے بچانے کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
جس کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ورکشاپ سے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ شاہ اور ڈین فیکلٹی آف بائیولوجیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز نے بھی خطاب کیا اور ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پرروشنی ڈالی۔ اس سے قبل ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئر ڈاکٹر فیصل نوروز نے مہمانوں کو یونیورسٹی آمد پرخوش آمدید کہا اور ورکشاپ میں شرکت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ورکشاپ میں چاروں ڈینز، فیکلٹی ممبران ، طلباء و طالبات اور سکالرز سمیت انتظامی افسران نے شرکت کی۔