
ایبٹ آباد میں کمشنر ہزارہ ڈویژن کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں خانۂ کاشت کو خانۂ ملکیت میں منتقل کرنے کے عمل اور مذکورہ نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران نوٹیفکیشن کا نفاذ روکنے والی رکاوٹوں اور عملی مسائل پر غور کیا گیا۔
کمشنر ہزارہ ڈویژن نے تمام ڈپٹی ڈائریکٹرز سروس ڈیلیوری سینٹرز (SDCs) کو ہدایت کی کہ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ آف رائٹس فیلڈ اسٹاف کو فراہم کیا جائے۔ اس سے رجسٹری کے عمل کو بروقت، درست اور مؤثر انداز میں اپ ڈیٹ کیا جا سکے گا۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) بٹگرام اور سیٹلمنٹ آفیسرز مانسہرہ و ایبٹ آباد کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایک جامع ورکنگ پیپر تیار کریں۔ اس ورکنگ پیپر میں خانۂ کاشت سے خانۂ ملکیت میں منتقلی کے دوران درپیش مسائل کی وضاحت کے ساتھ ان کےحل کے لیے تجاویز شامل ہوں گی۔ یہ ورکنگ پیپر کمشنر آفس کو بھیجا جائے گا تاکہ بورڈ آف ریونیو کے ساتھ مؤثر اور بروقت کارروائی کی جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر کمشنر ہزارہ ڈویژن نے زور دیا کہ نوٹیفکیشن کی اصل روح کے مطابق تمام شہریوں کی زمینیں بلا امتیاز خانۂ کاشت سے خانۂ ملکیت میں منتقل کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل کو شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنانے کے لیے سروس ڈیلیوری سینٹرز اور پٹوارئیوں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔