ایبٹ آباد (MansehraDotCom) میرپور میں پیش آنے والے موٹر مکینک توقیر احمد قتل و اقدامِ قتل کیس کا اہم فیصلہ سنا دیا گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج چہارم کی عدالت نے شواہد میں تضادات اور شک کے فائدے کی بنیاد پر مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق 28 نومبر 2021ء کو شعیب ولد محمد ارشاد سکنہ محلہ خضر زئی، میرپور نے تھانہ میرپور میں مقدمہ درج کروایا تھا۔ مدعی کے مطابق ان کے قریبی رشتہ داروں رضوان، ذیشان، عمر، نعمان پسران محمد عرفان اور دیگر افراد نے مبینہ طور پر ان کے پلاٹ پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کی، جس پر دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔
مدعی کے مطابق جھگڑے کے دوران ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں موٹر مکینک توقیر احمد، محمد ارشاد ولد محمد افضل، محمد فاروق، احتشام اور شاہد ولد محمد اشرف شدید زخمی ہو گئے تھے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تاہم توقیر احمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا اور نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کر دیا۔ یہ مقدمہ تقریباً پانچ سال تک ایڈیشنل سیشن جج چہارم کی عدالت میں زیر سماعت رہا جہاں گواہوں کے بیانات، شواہد اور وکلاء کے دلائل سنے گئے۔
عدالت نے کیس کی مکمل سماعت اور دونوں جانب کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم کو بلا شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام ملزمان کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔
ملزمان کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل وجیہہ خان سواتی ایڈوکیٹ اور فخر اسلام ایڈوکیٹ نے مقدمے کی پیروی کی، جبکہ مدعی کی طرف سے عاطف علی جدون ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے مقدمات میں اگر شواہد مضبوط نہ ہوں یا گواہی میں تضاد ہو تو عدالت ملزمان کو شک کا فائدہ دینے کی پابند ہوتی ہے، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا گیا۔
میرپور قتل کیس کا فیصلہ: موٹر مکینک توقیر احمد قتل کیس میں تمام ملزمان باعزت بری.
12