اسلام آباد: پاکستان میں عوام ایک بار پھر مہنگائی کے نئے طوفان کے لیے تیار ہو جائیں، کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ ہونے کے بعد ملک میں پیٹرول کی قیمت تاریخی سطح یعنی 400 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کی قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، جس کے براہ راست اثرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ رجحان جاری رہا تو آئندہ قیمتوں میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 28 اپریل تک برینٹ کروڈ کی قیمت 2.99 ڈالر اضافے کے بعد 111.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔
اسی طرح امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو 3.66 ڈالر بڑھ کر 100.03 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر چکی ہے۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر رسد و طلب کے عدم توازن، جغرافیائی کشیدگی اور پیداوار میں کمی جیسے عوامل اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
پاکستان میں چونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار عالمی مارکیٹ پر ہوتا ہے، اس لیے امکان ہے کہ آئندہ قیمتوں کے تعین میں حکومت کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور مجموعی مہنگائی پر بھی اثر پڑے گا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی ریلیف کے لیے مناسب پالیسی اقدامات کرے تاکہ مہنگائی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
🟥 پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ، فی لیٹر 400 روپے تک پہنچنے کی قیاس آرائیاں.
23