پاکستان کی علاقائی تجارت میں اہم پیش رفت: گبد بارڈر ٹرمینل TIR سسٹم کے تحت فعال.

23

پاکستان نے علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور روایتی تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاک-ایران سرحد پر واقع گبد بارڈر ٹرمینل کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (TIR) سسٹم کے تحت باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں وسعت لائے گا بلکہ پاکستان کو نئے اور محفوظ تجارتی مواقع بھی فراہم کرے گا۔
نیا تجارتی راستہ: افغانستان کے متبادل کی تلاش
اس پیش رفت کے بعد پاکستان اب افغانستان کے راستے پر انحصار کیے بغیر ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکے گا۔ یہ نیا روٹ نہ صرف فاصلہ کم کرتا ہے بلکہ سیکیورٹی، رفتار اور لاجسٹک سہولتوں کے لحاظ سے بھی ایک بہتر متبادل سمجھا جا رہا ہے۔
پہلی تجارتی کھیپ کی روانگی
نئے تجارتی روٹ کے تحت کراچی سے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے لیے گوشت کے کنٹینرز پر مشتمل پہلی کھیپ کامیابی سے روانہ کر دی گئی ہے۔ کسٹمز کلیئرنس مکمل ہونے کے بعد یہ کنٹینرز TIR نظام کے تحت ایران کے راستے اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ یہ اقدام عملی طور پر اس راہداری کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔
نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (NLC) کا کردار
اس اہم منصوبے کو فعال بنانے میں نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (NLC) نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ NLC اس سے قبل بھی چین، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ متعدد کامیاب تجارتی راہداریوں کو فعال کر چکی ہے، اور اب یہ ادارہ پاکستان کو علاقائی تجارتی مرکز بنانے میں اہم ستون بن رہا ہے۔
گبد بارڈر کی جغرافیائی اہمیت
گبد بارڈر ٹرمینل کا محلِ وقوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے:
گوادر سے صرف 70 کلومیٹر کے فاصلے پر
ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے تقریباً 120 کلومیٹر دور
یہ قربت مستقبل میں اسے ایک بڑے تجارتی حب میں تبدیل کر سکتی ہے، جہاں سے خطے کے مختلف ممالک کے لیے برآمدات اور درآمدات باآسانی ممکن ہوں گی۔
پاک-ایران سرحد اور تجارتی امکانات
پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جہاں پہلے ہی غیر رسمی تجارت جاری رہی ہے۔ اب اس بارڈر کی باضابطہ فعالیت سے قانونی تجارت کو فروغ ملے گا، محصولات میں اضافہ ہوگا اور سرحدی علاقوں میں معاشی ترقی کو تقویت ملے گی۔
ازبکستان: پاکستان کے لیے ابھرتی ہوئی مارکیٹ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی گوشت کی برآمدات میں ازبکستان کا حصہ 39 فیصد رہا، جو متحدہ عرب امارات سے بھی زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسطی ایشیا، خصوصاً ازبکستان، پاکستان کے لیے ایک بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ بن چکا ہے۔
مستقبل کے امکانات
ماہرین کے مطابق گبد بارڈر ٹرمینل کی فعالیت سے:
تجارتی لاگت میں کمی آئے گی
برآمدات میں اضافہ ہوگا
علاقائی روابط مضبوط ہوں گے
پاکستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ ہب بنانے میں مدد ملے گی
یہ اقدام چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو نئی جہت دے سکتا ہے۔
نتیجہ
گبد بارڈر ٹرمینل کا TIR سسٹم کے تحت فعال ہونا پاکستان کی تجارتی پالیسی میں ایک سنگِ میل ہے، جو ملک کو نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ وسیع تر علاقائی منڈیوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں