مری: مری ایکسپریس وے کے کجھوٹ کے مقام پر پیش آنے والا حالیہ افسوسناک حادثہ نہ صرف ایک دلخراش واقعہ ہے بلکہ انتظامی ترجیحات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے لائی ہے کہ جہاں ایک طرف محکمہ ہائی وے کی جانب سے سڑک کی خوبصورتی، تزئین و آرائش اور انفراسٹرکچر پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، وہیں دوسری جانب سیاحوں اور مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اور فوری ریسکیو نظام کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
مقامی مبصرین کے مطابق حادثے کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ ایکسپریس وے جیسے مصروف اور پہاڑی راستے پر فائر فائٹنگ آلات، ریسکیو گاڑیاں اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں کسی بھی حادثے کی صورت میں قیمتی جانوں کا ضیاع ایک افسوسناک حقیقت بن جاتا ہے۔
علاقائی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاح دور دراز سے مری کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں، تاہم بنیادی حفاظتی اقدامات اور بروقت امدادی نظام کی عدم موجودگی انہیں خطرات سے دوچار کر دیتی ہے۔ حادثات کی صورت میں تاخیر سے امداد پہنچنا صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
اس تناظر میں متعلقہ حکام اور اعلیٰ انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مری ایکسپریس وے پر محض ظاہری خوبصورتی کے بجائے انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ ہر چند کلومیٹر کے فاصلے پر فائر فائٹنگ یونٹس، ریسکیو گاڑیاں اور جدید لائف سیونگ آلات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بروقت نمٹا جا سکے۔
یہ واقعہ ایک سوال چھوڑ گیا ہے: کیا سڑکوں کی خوبصورتی انسانی جانوں سے زیادہ اہم ہے؟
مری ایکسپریس وے کجھوٹ حادثہ اور انتظامی غفلت — کیا خوبصورتی انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟
26