بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق، 1 زخمی
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم بیان
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ اس حملے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا ہے۔
حملے کی نوعیت اور مقام
یہ حملہ باب المندب، بحیرہ احمر میں ایک کارگو جہاز پر کیا گیا، جس میں جہاز کے ڈیک کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے 3 ارکان ہلاک ہوگئے۔
اسحاق ڈار کا موقف
· انہوں نے کہا کہ یہ حملے معصوم انسانی جانوں اور بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
· یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
· اس حملے سے جہاز رانی کی آزادی اور سمندری سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
🤝 پاکستان کا سفارتی رابطہ
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان:
· سعودی حکام اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے۔
· واقعے کی مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ جاری ہے۔
سفارت خانے کو ہدایات
نائب وزیراعظم نے ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی کہ:
· جاں بحق پاکستانیوں کی میتوں کی واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
· زخمی پاکستانی کی طبی امداد اور واپسی کے انتظامات کیے جائیں۔
اہلخانہ سے اظہارِ ہمدردی
اسحاق ڈار نے کہا:
“پاکستان جاں بحق پاکستانی شہریوں کے اہلخانہ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔”
انہوں نے واقعے کی صورتِ حال کا قریب سے جائزہ لینے اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے کی یقین دہانی کرائی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل
ترجمان دفتر خارجہ نے اس حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا:
· اس حملے سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
· حکومت پاکستان صورتِ حال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔
· پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ جہاز رانی کی حمایت کرتا ہے۔
· پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی اتحاد کا حصہ ہے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یمنی حکومت اور کوسٹ گارڈ نے بتایا تھا کہ حوثیوں نے باب المندب کے مقام پر کارگو جہاز کو نشانہ بنایا، جس میں 3 عملے ہلاک ہوئے۔
🚨 بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق، 1 زخمی
18