کوئٹہ کسٹمز اسکینڈل: ڈاکٹر کرم الٰہی کی گرفتاری اور تنازعہ —

18

گرفتاری کی تفصیلات
ایف آئی اے نے کوئٹہ کسٹمز کے سابق کلیکٹر ڈاکٹر کرم الٰہی کو مبینہ چاندی کی اسمگلنگ کیس میں گرفتار کر لیا۔ یہ کیس اپریل 2026 میں اس وقت سامنے آیا جب کسٹمز گودام سے 400 کلو گرام چاندی سیسے سے تبدیل کر کے اسمگل کر لی گئی ۔
مقدمے کی نوعیت
· ایف آئی اے نے پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 اور پی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ۔
· 214 کلو گرام چاندی اور 49 لاکھ روپے کیش برآمد ۔
· گریڈ 20 کے سینئر افسر ہونے کے باوجود گرفتاری عمل میں آئی ۔
· عدالت نے ایف آئی اے کو حتمی چالان جمع کرانے کا وقت دے دیا –
ذاتی زندگی اور دیانتداری کا تنازعہ
ڈاکٹر کرم الٰہی کا تعلق ضلع لوئر دیر سے ہے اور انہیں محکمہ میں دیانت دار افسر کے طور پر جانا جاتا تھا ۔ ذرائع کے مطابق ان کے پاس اپنا گھر یا ذاتی گاڑی نہیں، اور وہ پشاور میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اینٹی سمگلنگ کارروائیوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں ۔
انکشافات اور بڑھتا ہوا تنازعہ
ذرائع کے مطابق حراست کے دوران کرم الٰہی نے چونکا دینے والے انکشافات کیے:
· کلیئرنگ ایجنٹ کو پوسٹنگ کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کیے ۔
· ہر ماہ 15 کروڑ روپے کلیئرنگ ایجنٹ کو دیتے تھے ۔
· اپنے ماتحت افسران سے 24 کروڑ روپے ماہانہ وصول کرتے تھے ۔
· ایف بی آر چیئرمین پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے –
🔍 تحقیقات اور مزید کارروائی
· ایف آئی اے نے 7 افراد کو گرفتار کیا، جن میں دو پریونٹیو آفیسرز شامل ہیں ۔
· دو انسپکٹرز فرار ہیں ۔
· وزیراعظم نے ٹاسک فورس تشکیل دی ۔
· تین رکنی ہائی لیول انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ۔
· جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا
کیس نے احتساب اور دیانتداری کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔ کرم الٰہی کی ماضی میں انسدادِ سمگلنگ کامیابیوں اور موجودہ سنگین الزامات کے درمیان تضاد نے اسے متنازعہ بنا دیا ہے۔ اب عدالت اور انکوائری کمیٹی کے فیصلے کا انتظار ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں