مانسہرہ: کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کی طبی مشینری، جنریٹرز، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر قیمتی آلات کو اسکریپ قرار دے کر کم قیمت پر نیلام کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے ہسپتال انتظامیہ کے فیصلے اور نیلامی کے طریقہ کار پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہسپتال کے بعض ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جواد مجید سواتی کی سربراہی میں ہونے والی اس نیلامی میں متعدد ایسے طبی آلات بھی شامل تھے جو مبینہ طور پر قابلِ استعمال اور بہتر حالت میں موجود تھے، تاہم انہیں ناقابلِ استعمال (Condemned) قرار دے کر فروخت کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق نیلامی میں تقریباً 150 سے زائد طبی آلات اور مشینری شامل تھی، جن میں 5 الٹراساؤنڈ مشینیں، 9 ایکسرے مشینیں، 2 پورٹیبل ایکسرے یونٹس، ایک سی آرم (C-Arm)، 11 وینٹی لیٹرز، 7 کیمسٹری اینالائزرز، 3 بلڈ گیس اینالائزرز، 22 آکسیجن کنسنٹریٹرز، 6 ہیوی ڈیوٹی جنریٹرز، 30 بڑے ایئر کنڈیشنرز، 3 ڈیفبریلیٹرز، 2 اینستھیزیا مشینیں، 6 ڈائلاسز مشینیں، متعدد مائیکروسکوپس، کارڈیک مانیٹرز، سکشن مشینیں، نیبولائزرز اور دیگر طبی آلات شامل تھے۔
طبی آلات کی مارکیٹ ویلیو سے واقف حلقوں کے مطابق اگر یہی سامان دوبارہ خریدا جائے تو اس کی مجموعی مالیت 30 سے 40 کروڑ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ سامان کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم تقریباً 38 لاکھ روپے رہی۔ قیمت میں یہ نمایاں فرق نیلامی کے عمل پر مزید سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مشینری کو ناقابلِ استعمال قرار دینے کی تکنیکی رپورٹس، معائنہ کمیٹی کی سفارشات اور نیلامی سے متعلق مکمل ریکارڈ متعلقہ فورمز کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جس کے باعث پورا عمل شفافیت کے حوالے سے سوالات کی زد میں آ گیا ہے۔
دوسری جانب جب ہسپتال مینجمنٹ کمیٹی کے ارکان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس نیلامی سے متعلق مکمل ریکارڈ یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے وہ اس فیصلے یا طریقہ کار پر کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کمیٹی کے بعض ارکان نے مطالبہ کیا کہ مالی اور انتظامی معاملات میں مکمل شفافیت کے لیے تمام ریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔
اس معاملے پر کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جواد مجید سواتی اور ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل ہونے تک ان کا مؤقف موصول نہیں ہو سکا، جبکہ اسٹورز ایڈمن الیاس قریشی نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ اگر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کوئی وضاحت یا ردعمل موصول ہوا تو اسے بھی مناسب اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔
شہریوں، مریضوں کے لواحقین اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس نیلامی کے پورے عمل، مشینری کی اصل حالت، تکنیکی معائنے، قیمتوں کے تعین اور مالی معاملات کا آزادانہ آڈٹ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں اور قومی خزانے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
نوٹ: اس خبر میں شامل بعض الزامات متعلقہ ذرائع اور دستیاب معلومات پر مبنی ہیں۔ ان کی حتمی تصدیق آزادانہ تحقیقات اور متعلقہ حکام کی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔
کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ میں کروڑوں روپے مالیت کی طبی مشینری کی مبینہ کم قیمت پر نیلامی، شفاف تحقیقات کا مطالبہ.
31