شیروان گرلز پرائمری سکول کی کتابیں مبینہ طور پر ردی میں فروخت، تحقیقات کا مطالبہ.

22

ایبٹ آباد کے علاقے شیروان میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کے عملے پر بچوں کے لیے فراہم کی گئی درسی کتابیں مبینہ طور پر ردی میں فروخت کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔
الزام کے مطابق یکم اگست 2026 کو شام تقریباً 4 بجے سکول کے ایک کلاس فور ملازم نے خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی تقریباً 75 کلو گرام درسی کتابیں ایک کیری ڈبہ پر لے جا کر مقامی ردی فروش کو 1,900 روپے میں فروخت کر دیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اطلاع ملنے پر اگلے روز متعلقہ دکان پر چیک کیا گیا تو کتابیں وہاں موجود تھیں، جبکہ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی بطور ثبوت سامنے آئی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ طلبہ کو اکثر درسی کتابوں کی کمی کا سامنا رہتا ہے اور سکول انتظامیہ کی جانب سے کتابیں دستیاب نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث والدین کو بازار سے کتابیں خریدنا پڑتی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ سرکاری وسائل کو بچوں تک پہنچانے کے بجائے ردی میں فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔


شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں