واقعہ کی مذمت
صوبائی مشیر اطلاعات شفیع اللہ جان نے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مال روڈ واقعہ کو قابلِ مذمت قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جسے کسی بھی صورت میں جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
محمد حسین کے ذہنی توازن پر اظہارِ خیال
شفیع اللہ جان نے بتایا کہ محمد حسین کا ذہنی توازن درست نہیں تھا، اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایسا ناقابلِ قبول عمل کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی سیاسی یا نظریاتی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک انفرادی ذہنی کیفیت کا عکس تھا۔
محمد حسین کا تعلق اور سیاسی وابستگی
· محمد حسین کا تعلق خیبر سے تھا۔
· شفیع اللہ جان نے تسلیم کیا کہ محمد حسین ہمارا (پی ٹی آئی کا) کارکن تھا، مگر اسے کبھی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی۔
· ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جماعت کے لاکھوں کارکن ہوتے ہیں، کسی ایک کارکن کے عمل کو پوری جماعت پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر کی تحقیقات سے قبل موقف سازی پر تنقید
شفیع اللہ جان نے وفاقی وزیر کی اس حرکت پر سخت تنقید کی کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اس واقعہ کو پی ٹی آئی سے جوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا:
“تحقیقات کے بغیر الزام تراشی انصاف کے منافی ہے اور اس سے عوام میں الجھن پیدا ہوتی ہے۔”
لانگ مارچ اور مال روڈ واقعہ میں کوئی تعلق نہیں
شفیع اللہ جان نے سختی سے اس بات کی تردید کی کہ لانگ مارچ کا مال روڈ واقعہ سے کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا:
“لانگ مارچ ایک پرامن احتجاجی تحریک تھی، اسے ایک انفرادی واقعے سے جوڑنا انتہائی غیر منصفانہ اور سیاسی طور پر بدنیتی پر مبنی ہے۔”
صوبائی مشیر اطلاعات کے پی حکومت شفیع اللہ جان کا مال روڈ واقعہ پر مؤقف.
29