لاہور — سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ تھانہ ٹاؤن شپ میں 4 اگست کو دو خواتین کی یکے بعد دیگرے ہلاکت پولیس کے لیے بھی معمہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے شواہد نہیں ملے، جبکہ موت کی اصل وجہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔
⏱️ واقعے کا ٹائم لائن
سی سی پی او کے مطابق:
· 2:52 بجے — پولیس کو نوسربازی کی اطلاع ملی
· 3:11 بجے — پولیس موقع پر پہنچی
· 3:26 بجے — خواتین کو تھانے لایا گیا
· 4:50 بجے — مقدمہ درج (FIR نمبر 1476/26، دفعات 379/420)
· 5:45 بجے — خواتین کی طبیعت بگڑنا شروع ہوئی
· 7:00 بجے — جناح اسپتال منتقل، جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کردی
تحقیقاتی پیش رفت
عنوان تفصیل
پوسٹ مارٹم رپورٹ تشدد یا بیرونی چوٹ کے شواہد نہیں ملے
عدالتی انکوائری دفعہ 176 کے تحت مجسٹریٹ انکوائری میں بھی تشدد ثابت نہیں ہوا
سی سی ٹی وی فوٹیج خواتین کے کپڑے پولیس حراست سے پہلے ہی پھٹے ہوئے تھے
طبی مشاہدات بازوؤں پر متعدد انجیکشن مارکس، منشیات کے استعمال کی نشاندہی
سابقہ ریکارڈ لاہور اور گجرات میں متعدد مقدمات درج
سی سی پی او کا مؤقف
بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ:
“خواتین کو جب چاہیں تھانے شکایت کے لیے آ سکتی ہیں، لیکن پولیس کسی خاتون کو مغرب کے بعد تفتیش کے لیے نہیں بلا سکتی۔”
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی بھی پولیس اہلکار کے خلاف تشدد، غفلت یا بدعنوانی کا ثبوت ملا تو بلاامتیاز قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
خاندان کا الزام
دونوں خواتین (آمنہ، 17.5 سال، اور انمول، 22 سال) نند اور بھابھی تھیں۔ اہلخانہ کا الزام ہے کہ موت پولیس تشدد کی وجہ سے ہوئی، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کی عادی تھیں۔
لاہور: پولیس حراست میں دو خواتین کی موت، سی سی پی او کا پریس کانفرنس میں بیان.
25