نئے صوبوں کے قیام پر اسلام آباد میں اہم اجلاس.

27

اسلام آباد میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی صوبائی تحریکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی اختیارات کی منتقلی اور مستقبل کے مشترکہ لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کی صدارت اور مقام
اجلاس چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف کی صدارت میں سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔
نام عہدہ/تحریک
سردار محمد یوسف چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک، وفاقی وزیر مذہبی امور
محمد علی درانی سابق وفاقی وزیر اطلاعات، چیئرمین تحریکِ بحالی صوبہ بہاولپور (مہمانِ خصوصی)
سینیٹر طلحہ محمود پیپلز پارٹی، رہنما صوبہ ہزارہ تحریک
بابر نواز خان ممبر قومی اسمبلی
پروفیسر سجاد قمر مرکزی کوآرڈینیٹر صوبہ ہزارہ تحریک
مولانا سید چراغ الدین شاہ چیئرمین علماء و مشائخ کونسل
قاری محبوب الرحمن کوآرڈینیٹر
ایم ساجد عباسی صوبہ اسلام آباد و تحریک صوبہ پوٹھوہار
اہم شخصیات کے بیانات
سردار محمد یوسف
“ہم گزشتہ 16 سال سے مل کر صوبوں کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ 2011ء میں ہم نے تحریکِ صوبہ جات کی بنیاد رکھی۔ ہزارہ اور بہاولپور کا مطالبہ خالصتاً انتظامی بنیادوں پر ہے۔ چھوٹے یونٹس کے قیام سے ملکی معیشت مضبوط ہو گی۔”
انہوں نے مزید کہا:
· ہزارہ قدرتی وسائل، ڈیمز، حطار انڈسٹری اور سیاحتی مقامات سے مالا مال ہے
· پارلیمان میں قومی قیادت ہزارہ صوبے پر اتفاق کر چکی ہے
· پاکستان کی آبادی 3 کروڑ تھی تب 4 صوبے تھے، اب 25 کروڑ سے زائد آبادی ہے مگر کوئی نیا صوبہ نہیں بنا
محمد علی درانی
“ہزارہ اور بہاولپور سمیت نئے صوبوں کا قیام قوم کو متحد کرے گا۔ چھوٹے صوبے ملکی استحکام کا سبب بنیں گے اور ملک میں جاری سیاسی نفرتوں اور انتشار کا خاتمہ ہو گا۔”
انہوں نے کہا کہ دونوں علاقوں کے عوام نے خون دیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس خون کی قدر کی جائے۔
سینیٹر طلحہ محمود
“ہزارہ کے بے پناہ وسائل ہیں لیکن وہ سارے کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ میں صوبہ ہزارہ کے لیے 16 سال سے اس جدوجہد کے ساتھ ہوں۔ سینیٹ میں سب سے پہلے صوبہ ہزارہ کا نعرہ لگایا۔”
پروفیسر سجاد قمر
ہزارہ اور بہاولپور کا پرانا ساتھ ہے۔ اب قومی سطح پر بھی ہمارے موقف کی تائید ہو چکی ہے۔
بابر نواز
“صرف حطار انڈسٹریل ایریا سے اربوں روپے آ رہے ہیں۔ ڈیم ہمارے ہیں، منرلز اور مائنز ہیں۔ لیکن یہاں کلاس فور تک دوسرے علاقوں سے آتے ہیں۔”
· 2010ء — تحریک صوبہ ہزارہ کا آغاز
· 2011ء — تحریکِ صوبہ جات کی بنیاد رکھی گئی
· 2014، 2018، 2020 — خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہزارہ صوبے کی قراردادیں منظور
· ہر سال 12 اپریل — ہزارہ شہداء کا دن منایا جاتا ہے
· تحریک میں 7 نوجوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا
1. قومی سطح پر ہم آہنگی اور لابنگ کے لیے کمیٹی تشکیل
2. تمام اضلاع میں آل پارٹی کانفرنسز کا انعقاد
3. اسلامی آباد میں بڑے کنونشن کا اہتمام
4. اگر ضرورت پڑی تو عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا

🏛️ #نئے_صوبے #ہزارہ_صوبہ #بہاولپور_صوبہ #صوبہ_پوٹھوہار #اسلام_آباد #صوبائی_تحریک #انتظامی_اصلاحات #سردار_محمد_یوسف #طلحہ_محمود #محمد_علی_درانی #آئینی_ترمیم #پاکستان_سیاست

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں