عام آدمی کو ریلیف دینے والی پہلی شمسی ٹیکسی کے مالک پر دو حملے، ڈرائیور پر تشدد اور گاڑی کی توڑ پھوڑ، احتجاج کے دوران پولیس کا گریبان پر ہاتھ ڈالنے کا واقعہ
مانسہرہ – عام آدمی کو سستے سفر کی سہولت دینے والے عارف انقلابی پر دو مرتبہ حملے ہوئے، ان کی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا اور ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ احتجاج کے دوران پولیس نے عارف انقلابی کے گریبان پر ہاتھ ڈال کر گرفتاری کی کوشش کی، تاہم لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے کامیابی نہ ہو سکی۔
شمسی توانائی پر چلنے والی پہلی گاڑی
عارف انقلابی نے اپنے جیسے عام آدمیوں کو ریلیف دینے کے لیے شمسی توانائی پر چلنے والی 14 سیٹر گاڑی مانسہرہ لے کر آئے۔ یہ گاڑی مانسہرہ کی سڑکوں پر چلنے لگی اور عام مسافروں کو دس، بیس، تیس، پچاس روپے کا ریلیف ملا۔
پہلا حملہ اور ہسپتال
عارف انقلابی پر پہلا حملہ ہوا، چھریاں لگ گئیں اور وہ ہسپتال پہنچ گئے۔ تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور حملہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر مسافروں کو مزید ریلیف دینے کا اعلان کر دیا۔ گاڑی ڈرائیور کو دے کر خود مقدمہ لڑنے لگے۔
اس دوران ایک آدھ کے علاوہ کوئی ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔
دوسرا حملہ اور احتجاج
سبزی منڈی کے قریب دوسرا حملہ ہوا، ڈرائیور پر تشدد اور گاڑی کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس کے خلاف عارف انقلابی اور کئی دیگر افراد نے پنجاب چوک مانسہرہ میں روڈ بلاک کر کے احتجاج شروع کر دیا۔
پولیس پہنچی اور روڈ آزاد کرانے کی کوشش کی۔ اس دوران عارف انقلابی کے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا اور گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم لوگ زیادہ ہونے کی وجہ سے گرفتاری نہ ہو سکی۔
پولیس کا مؤقف
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ تھانہ لاری اڈہ کی حدود میں پیش آیا، اس لیے ایف آئی آر بھی وہیں درج ہونی چاہیے اور ملزمان بھی انہیں پکڑنے ہیں۔ تھانہ سٹی کی حدود شاہراہ ریشم پر احتجاج کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
پہلا واقعہ تھانہ سٹی کی حدود میں ہوا تھا، جس کی ایف آئی آر درج ہو گئی، کچھ ملزمان نے بی بی اے کرا لی، کچھ پکڑے گئے اور کچھ چھپ گئے — ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
79ویں جشن آزادی کی کہانی
“عارف انقلابی کے گریبان پر ڈالا گیا قانون کا یہ ہاتھ 79 سال سے ہر عام آدمی کے گریبان تک پہنچ رہا ہے اور یہ ہاتھ ملک و قوم کو لوٹ کر بڑے آدمی بننے والوں کو سلگھٹنے کا فریضہ بھی سر انجام دے رہا ہے۔ یہ ہے 79ویں جشن آزادی منانے والے ملک کی کہانی۔”
عارف انقلابی: شمسی گاڑی کا خواب، حملے اور احتجاج — 79ویں جشن آزادی کی کہانی.
26