کوثر اور جاوید عرف شاہین کے ساتھ لین دین کا تنازعہ، کاشف عرف کاشی نے ٹیلیفون کرکے بلایا
ٹیکسلا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین) – معروف خاتون ٹک ٹاکر عائشہ کے قتل کا باقاعدہ مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے مدعی کی درخواست پر قتل، اقدامِ قتل اور دیگر شدید دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمے کے متن میں مدعی نے بتایا کہ کاشف عرف کاشی نامی شخص نے ان کی بیٹی 28 سالہ شمسو عرف عائشہ کو ٹیلیفون کرکے بلایا تھا، جس پر عائشہ اپنے بھائی اور کمسن بہن کے ہمراہ اپنی گاڑی پر سوار ہو کر گھر سے روانہ ہوئی تھی۔
سفر کے دوران جیسے ہی ان کی گاڑی نجی پیٹرول پمپ کے قریب پہنچی تو موٹرسائیکل پر سوار مسلح ملزمان نے اچانک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں عائشہ کو متعدد گولیاں لگیں۔
بہن بھی شدید زخمی
ایف آئی آر میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ شدید فائرنگ اور بھگدڑ کے دوران بیٹی کی گاڑی کا توازن بگڑ گیا اور وہ سڑک پر کھڑے ایک ڈمپر سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود مقتولہ کی 15 سالہ بہن بھی شدید زخمی ہو گئی، جسے تشویشناک حالت میں پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔
مالی لین دین کا تنازعہ اور دھمکیاں
مقتولہ کے والد نے پولیس کو دیے گئے بیان اور مقدمے کے متن میں واضح الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی عائشہ پیشہ ورانہ طور پر ٹک ٹاکر تھی اور اس کا کوثر اور جاوید عرف شاہین نامی افراد کے ساتھ مالی لین دین کا شدید تنازعہ چل رہا تھا۔
عائشہ نے متعدد بار اپنے اہلخانہ کو آگاہ کیا تھا کہ اسے مذکورہ ملزمان کی جانب سے سنگین نتائج اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
پولیس کی کارروائی
مدعی نے الزام لگایا ہے کہ نامزد ملزمان نے اس کی بیٹی کی رقم ہڑپ کرنے کی نیت سے خود یا اپنے نامعلوم ساتھیوں کے ذریعے منصوبہ بندی کے تحت عائشہ کو قتل کروایا ہے۔
اس دعوے پر ٹیکسلا پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد واقعے کی سائنسی اور مختلف زوایوں سے مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور نامزد ملزمان کو شاملِ تفتیش کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مزید تازہ کاریاں جاری
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے اور جلد ہی انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات، ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم.
19