فرنٹیئر مائن اونر ایسوسی ایشن کا حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ، معاشی نقصانات 100 کروڑ سے تجاوز کر گئے
ایبٹ آباد (نمائندہ خصوصی) – فرنٹیئر مائن اونر ایسوسی ایشن ایبٹ آباد نے بارودی مواد کی حالیہ بندش کو مائننگ انڈسٹری کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، بلا جواز اس پابندی کے نتیجے میں صوبے کو اب تک 100 کروڑ روپے سے زائد کا ریونیو نقصان ہو چکا ہے جبکہ لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔
فرنٹیئر مائن اونر ایسوسی ایشن کی نمائندہ میٹنگ ڈویژنل صدر قاضی مصدق جان کی سربراہی میں منعقد ہوئی، جس میں صدر ایبٹ آباد حاجی غفور خان، جنرل سیکریٹری اسد جاوید خان اور صوبائی صدر عزیر خان تنولی نے خصوصی شرکت کی۔ ڈائریکٹر لائسنسنگ ہزارہ ڈویژن محسن خان اور سینئر انسپکٹر مائنز کے سامنے مائن اونرز نے اپنے مسائل اور تحفظات کا اظہار کیا۔
مائن اونرز کا مؤقف: سیکیورٹی کے ساتھ روزگار کا تحفظ ضروری
میٹنگ میں واضح کیا گیا کہ بارودی مواد قانونی لائسنسنگ کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے اور صرف مجاز مائننگ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مائن اونرز نے سیکیورٹی اداروں کی تمام SOPs، اضافی نگرانی اور سخت شرائط پر عملدرآمد کے لیے مکمل آمادگی ظاہر کی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ مکمل پابندی کے بجائے ایک محفوظ اور قابلِ عمل طریقہ کار کے تحت مائننگ سرگرمیاں فوری بحال کی جائیں۔
اسد جاوید خان نے کہا:
“لاکھوں مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے گئے ہیں۔ بارودی مواد کی بندش سے صرف مائن اونرز ہی نہیں بلکہ ٹرانسپورٹرز، فیکٹری مالکان اور ہزاروں مائن ورکرز متاثر ہوئے ہیں۔”
معاشی نقصانات اور دہشت گردی کے خطرات
عزیر خان تنولی نے میٹنگ میں بتایا کہ بارودی مواد کی بندش کے باعث محکمہ معدنیات کے سرکاری ریویو کو 100 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ طویل بے روزگاری اور معاشی مشکلات دہشت گرد اور ملک دشمن عناصر کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:
“ہم سیکیورٹی کے خلاف نہیں؛ ہم سیکیورٹی کے ساتھ روزگار، کاروبار اور صوبے کی معیشت کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں۔”
حکومتی سطح پر اپیل اور دھرنے کی انتباہ
ایسوسی ایشن نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لے کر بارودی مواد کی بندش ختم کروائی جائے۔
میٹنگ میں یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ اگر مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو مائن اونرز، مزدوروں اور دیگر متاثرہ طبقات کے ساتھ بھاری مشینری اور معدنیات سے لدے ٹرکوں سمیت پشاور کی جانب پُرامن مارچ اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔
محکمہ معدنیات کے باہر ایسوسی ایشن نے رلامتی احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔
پس منظر
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں بھی مائن اونرز اور مزدوروں نے L-4 بارودی لائسنس کی معطلی کے خلاف احتجاج کیا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس پابندی سے ضلع بھر میں مائننگ آپریشنز، ماربل پروسیسنگ اور ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ ان کے مطابق، تقریباً 200,000 مزدوروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر کا ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہے۔
حالیہ اجلاس میں دیگر تحفظات
اس سے قبل فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں ایکسائز ڈیوٹی میں مجوزہ اضافہ، لیزوں کی منسوخی، اینول رینٹ میں اضافہ اور رائلٹی و دیگر فیسوں میں حالیہ اضافے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ تمام سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کے بغیر یکطرفہ فیصلے صنعت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
مائننگ انڈسٹری کے اس بحران کے حل کے لیے حکومتی سطح پر توجہ اور فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے، ورنہ لاکھوں خاندان مزید معاشی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔
بارودی مواد کی بندش: مائننگ انڈسٹری بحران کا شکار، لاکھوں مزدور بے روزگار.
17