پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج نہ کرنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں
ہری پور (نمائندہ خصوصی) – شہر میں جرائم میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بچوں کے مبینہ اغوا، تشدد اور دیگر سنگین جرائم نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک نیا واقعہ تھانہ سٹی کی حدود میں پیش آیا جہاں رنگیلا روڈ پر ایک نوجوان بے ہوشی کی حالت میں ملا۔
متاثرہ نوجوان کی شناخت قمر ضیا ولد ضیافت کے نام سے ہوئی، جو کوٹھا پیر کوٹ کا رہائشی تھا۔ اسے فوری طور پر ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔
کیا ہے واقعہ؟
پولیس کے مطابق قمر ضیا صبح اپنے علاقے سے ہری پور شوروم پر آیا تھا۔ شام کے وقت جب وہ اٹالین مال کے قریب سے گزر رہا تھا تو دو نامعلوم افراد نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔
دہشت زدہ نوجوان بھاگتے ہوئے گر گیا اور اسے بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا۔ بعد ازاں متاثرہ کے رشتہ دار تھانہ سٹی پہنچے اور انہوں نے تحریراً اپنی عدم دعویداری کا اظہار کیا۔
پولیس کی کارروائی پر سوالات
مدعی کی جانب سے عدم دعویداری کے باوجود پولیس نے از خود مدعیت میں مقدمہ درج نہیں کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق پولیس کو سنگین نوعیت کے واقعات میں مدعی کی عدم دعویداری کی صورت میں بھی سرکار کی جانب سے مقدمہ درج کرنا چاہیے تھا۔
پولیس نے نہ تو ملزمان کی شناخت کا تعین کیا اور نہ ہی اس بات کی تحقیقات کی کہ نوجوان کا پیچھا کیوں کیا جا رہا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس نے نہ شروع ہونے والی فائل کو کلوز کرنے کو ترجیح دی۔
ہری پور میں بڑھتے ہوئے جرائم
ہری پور میں حالیہ دنوں میں جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اغوا کے واقعات: ایک پندرہ سالہ ہندو لڑکی جو مری سے اغوا ہوئی تھی، کو ہری پور سے 24 گھنٹوں کے اندر بازیاب کرایا گیا۔
فائرنگ کا واقعہ: تھانہ سٹی کی حدود میں جی ٹی روڈ درویش موڑ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے محکمہ صحت کے ایک ملازم کو موٹرسائیکل پر فائرنگ کرکے جاں بحق کر دیا جبکہ اس کی اہلیہ محفوظ رہی۔
منشیات کا خطرہ: اطلاعات کے مطابق ہری پور کے مختلف علاقوں بشمول خیل آباد، سرائے صالح اور درویش میں منشیات فروشوں کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے جس سے نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
پولیس کی بڑی کارروائی
تاہم ان واقعات کے باوجود پولیس نے ایک بڑی کامیابی بھی حاصل کی۔ ہری پور پولیس نے اٹک کے ہائی پروفائل مجرم زرغلام اللہ کو اس کے والد کے ہمراہ انکارنٹر میں ہلاک کر کے ایک مبینہ اغوا شدہ لڑکی کو بازیاب کرایا۔
ملزم زرغلام پچاس ملین روپے تاوان کے لیے اغوا، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور جنسی زیادتی سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ اس نے اپنے خاندان کی خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا تھا جنہیں پولیس نے محفوظ نکال لیا۔
شہریوں کا مطالبہ
ہری پور کے شہریوں نے آئی جی خیبرپختونخوا، ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن اور ڈی پی او ہری پور سے اپیل کی ہے کہ بڑھتے ہوئے جرائم کا نوٹس لیا جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
قمر ضیا کا معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شہر میں عام شہری کی جان و مال کتنی غیر محفوظ ہے اور معاملات کو کیسے نمٹایا جا رہا ہے۔
ہری پور میں جرائم میں اضافہ: بچوں کے اغوا اور تشدد کے واقعات نے پریشان کر دیا.
2