بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے قیام کیلئے آئینی ترمیمی بل ستمبر میں پیش کیا جائے گا، محمد علی درانی کا اعلان.

31

اسلام آباد – ایک اہم سیاسی پیش رفت میں، اسٹیبلشمنٹ کے خاص آدمی اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے اعلان کیا ہے کہ بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے فوری قیام کیلئے آئینی ترمیمی بل ستمبر کے اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
اہم پیش رفت ایک نظر میں:
· بل کی پیش کش: ستمبر میں آنے والے پارلیمانی اجلاس کے دوران، درانی کی تصدیق۔
· آئینی مرحلہ مکمل: دونوں مجوزہ صوبوں کی تشکیل کی قراردادیں موجودہ صوبائی اسمبلیوں سے منظور ہو چکی ہیں — جسے پہلا آئینی مرحلہ مکمل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
· ہزارہ کی تاریخی قرارداد: صوبہ ہزارہ کی قرارداد تین بار منظور ہو چکی ہے، جو اس علاقے میں طویل عرصے سے جاری سیاسی مطالبے کی عکاسی کرتی ہے۔
· اگلی رکاوٹ: بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہوگی تاکہ آئینی ترمیم کا آخری مرحلہ طے ہو سکے۔–
کیا ہوگا اگر بل منظور ہو گیا؟
اگر یہ بل کامیابی سے منظور ہو جاتا ہے تو پاکستان کا انتظامی نقشہ بدل سکتا ہے — یہ ایک ایسا اقدام جس کے دور رس سیاسی اور آبادیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔
سرکاری تصدیق ابھی تک موصول نہیں ہوئی، تاہم درانی کے اس اعلان نے سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث کو جنم دے دیا ہے۔ حامیوں نے اسے دیرینہ مطالبہ قرار دیا ہے تو وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اہم آئینی تبدیلی سے پہلے وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں