صوبہ ہزارہ: قرارداد کی منظوری اور آئینی تقاضے.

19

قومی اسمبلی اور ایوان بالا کو سفارش کی گئی ہے کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے آئینی تقاضے پورے کیے جائیں۔ اس سلسلے میں موجودہ صوبے کی اسمبلی سے تین مرتبہ قرارداد منظور ہو چکی ہے: ایک بار متفقہ طور پر اور دو بار اکثریت رائے سے، جسے سپیکر کی رولنگ کے بعد قانونی شکل دے دی گئی ہے۔
آئینی تقاضہ
ماہرینِ قانون کے مطابق، ان قراردادوں کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ آئین کی شق آرٹیکل 239 (4) کے مطابق کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے ایوان کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کا موقف
سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ صوبہ ہزارہ اور بہاولپور کے قیام کے لیے آئینی ترمیمی بل ستمبر 2027 میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں صوبوں کے قیام کے لیے آئینی اور سیاسی تقاضے پہلے ہی پورے ہو چکے ہیں۔
قانونی اور سیاسی صورتحال
قانونی پہلو:
· قرارداد کی منظوری کا پہلا آئینی مرحلہ (صوبائی اسمبلی سے منظوری) مکمل ہو چکا ہے۔
· اب اگلا مرحلہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہے۔
· اس سلسلے میں 2019 میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ایک آئینی ترمیمی بل بھی پیش کیا جا چکا ہے۔
سیاسی پہلو:
· اس وقت وفاقی حکومت میں شامل جماعتیں (پی ایم ایل این اور پی پی پی) اس معاملے پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔
· حال ہی میں قانون وزیر اعظم ناظم تارڑ نے اشارہ دیا ہے کہ ہزارہ اور سرائیکی صوبوں کے قیام کا معاملہ جاری سیاسی گفتگو کا حصہ ہے، تاہم اس کے لیے تمام اتحادی جماعتوں میں اتفاق رائے ضروری ہے
صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرارداد کا صوبائی اسمبلی سے تین بار منظور ہونا ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ تاہم، اب اس کی تکمیل کے لیے قومی سطح پر سیاسی اتفاق رائے اور پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، جو اس وقت ایک سیاسی چیلنج بنا ہوا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں