ایبٹ آباد – سوئی ناردرن گیس کے ایبٹ آباد آفس کے خلاف ایک اور شکایت سامنے آئی ہے، جہاں ایک زیر تعمیر گھر کے بند میٹر کا بھاری بل بھیج دیا گیا۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ دو سال سے میٹر بند ہے اور وہ باقاعدگی سے بل جمع کراتا رہا، پھر بھی اضافی بل بھیجنا ظلم ہے۔
متاثرہ شہری کا مؤقف
شہری کا کہنا ہے کہ ان کا گیس میٹر زیر تعمیر گھر میں ہونے کی وجہ سے دو سال سے بند ہے۔ اس دوران وہ باقاعدگی سے کم از کم بل جمع کراتے رہے، تاہم گیس کمپنی نے ابھی ایک بار پھر اضافی اور بھاری بل بھیج دیا ہے۔ ان کا سوال ہے کہ جب میٹر ہی بند ہے تو بل کیوں آ رہا ہے اور اس ظلم کے خلاف انصاف کون کرے گا؟
گیس میٹر کے مسائل اور قانونی حیثیت
ماہرین کے مطابق، اگر گیس میٹر “سٹکی” (stuck) ہو جائے یعنی صفر یا بہت کم استعمال رجسٹر کرے تو کمپنی تخمینی بل جاری کر سکتی ہے ۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ صارف کو بلاوجہ بھاری بل دیا جائے۔
عدالتی فیصلے واضح ہیں:
· سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ بلنگ اور میٹرنگ سے متعلق تمام تنازعات گیس یوٹیلیٹی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ۔
· صارفین کو گیس یوٹیلیٹی کورٹ میں براہ راست درخواست دینے کا حق حاصل ہے، اور انہیں پہلے کسی اور فورم (مثلاً OGRA) پر جانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔
ایبٹ آباد: بند میٹر کا بھاری بل، متاثرہ شہری کا سوال – انصاف کون کرے گا؟
43