اعزاز سید صاحب، آپ کا سوال بجا ہے۔ بارش کا پانی اور شہری سیلاب راولپنڈی کا کوئی نیا مسئلہ نہیں، یہ ایک بار بار آنے والا شیڈول ہے جس کے لیے کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکا۔
کیا ہوا؟
· شدید بارش: گزشتہ 24 گھنٹوں میں راولپنڈی میں 130 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے نالہ لائی کا پانی خطرناک حد تک بڑھ گیا۔
· تباہی: لوگوں کے گھروں اور کاروبار کو نقصان پہنچا۔ راجہ بازار میں سیلاب کے پانی نے گوداموں کو متاثر کیا، جس سے تاجروں کو لاکھوں سے اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
· ریسکیو: ریسکیو 1122 کی ٹیمیں متحرک ہیں۔ انہوں نے گھروں میں پھنسے لوگوں کو بچایا، بشمول 150 مدرسہ طلبہ کو بحفاظت نکالا گیا۔
حل کیوں نہیں نکال سکے؟
اس کا جواب منصوبہ بندی کی ناکامی میں ہے، نہ کہ بارش کی شدت میں۔
1. منصوبہ بندی موجود ہے، عملدرآمد نہیں:
· کمشنر راولپنڈی نے جولائی 2026 میں ہی سیلاب سے بچاؤ کا ایک جامع منصوبہ منظور کر لیا تھا، جس میں نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایات تھیں۔
· پنجاب فلڈ پلین ریگولیشن ایکٹ 2016 اور پنجاب اریگیشن، ڈرینیج اینڈ ریورز ایکٹ 2023 جیسے قوانین موجود ہیں، مگر ان کی عملداری نہیں ہوتی۔ ندی نالوں میں تجاوزات اور نکاسی کے راستے بند ہو چکے ہیں۔
2. ادارہ جاتی ناکامی:
· سی ڈی اے، واسا، اور کنٹونمنٹ بورڈ جیسے ادارے الگ الگ کام کرتے ہیں۔ سیلاب سے پہلے کوئی مربوط حکمت عملی نہیں ہوتی اور بعد میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں۔
· تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے مختص فنڈز بھی اکثر خرچ نہیں ہوتے اور مقامی سطح پر وسائل کی شدید کمی ہے۔
احتساب کا سوال
بالکل، احتساب ہونا چاہیے۔
· سیاسی تنقید: پیپلز پارٹی نے پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ “حکومت سو رہی ہے جبکہ عوام اپنی محنت ڈوبتے دیکھ رہے ہیں”۔
· ماضی کے واقعات: 2022 کے سیلاب میں 43 ارب روپے سے زائد کا زرعی نقصان ہوا اور 42 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، لیکن اس کے باوجود کسی بھی ذمہ دار افسر کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
· ضرورت: اس بات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے کہ انتباہات کے باوجود تیاری کیوں نہیں کی گئی اور انسدادی اقدامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا۔
یہ مسئلہ موسمیاتی تبدیلی کا نہیں، منصوبہ بندی اور احتساب کا ہے۔ جب تک ادارے اپنی ناکامیوں کا جواب دہ نہیں ہوں گے، ہر بارش راولپنڈی کے لیے ایک المیہ ثابت ہوگی.
راولپنڈی میں پانی، تباہ حالی، اور احتساب کا سوال.
19